بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین نے 2018 میں عمران خان کو امن کے لیے خطرہ قرار دیا تھا
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین نے 2018 میں سابق وزیراعظم عمران خان کو عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔ یہ انکشاف امریکی ڈیموکریٹس کی جانب سے ایوانِ نمائندگان کی اوور سائٹ کمیٹی کو فراہم کی گئی ای میلز میں سامنے آیا، جس وقت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے ملک کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔
ای میلز کے مطابق، 31 جولائی 2018 کو ایپسٹین نے ایک نامعلوم فرد کے ساتھ اپنی گفتگو میں عمران خان کا ذکر کیا اور لکھا کہ اگرچہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے حکومتیں گرانے یا بغاوت کے لیے فنڈنگ نہیں کی، لیکن پاکستان میں عمران خان، ترک صدر رجب طیب اردوان، ایران کے خمینی، چین کے صدر شی جن پنگ اور روسی صدر پیوٹن کے مقابلے میں امن کے لیے کہیں زیادہ بڑا خطرہ ہیں۔
جب ای میل کے جواب میں سوال آیا کہ “پاکستان والا پاپولسٹ؟” تو ایپسٹین نے مختصر جواب دیا: “انتہائی بری خبر”، جو عمران خان کی طرف اشارہ تھا۔ بعد میں جب دوبارہ پوچھا گیا کہ “کرکٹر؟ اسلام پسند سے بھی زیادہ خطرناک کیسے؟” تو ایپسٹین نے جواب دیا کہ عمران خان ہجوم کو جوش دلانے میں ماہر ہیں، مذہب یا نظریات سے زیادہ شخصیت پرستی کے کلٹس سے مشابہ ہیں۔
ایپسٹین نے مزید اپنے ای میل میں عمران خان کی کرکٹ کی شخصیت اور لندن کے اعلیٰ نائٹ کلبوں میں سوشل زندگی کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ سیاست میں آنے سے پہلے دنیا کے بہترین آل راؤنڈرز میں شمار ہوتے تھے۔
یہ ای میلز ایپسٹین کے وسیع اور بااثر تعلقات کی بھی عکاس ہیں، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک اعلیٰ مشیر سے لے کر برطانیہ کے سابق شہزادے اینڈریو تک پھیلے ہوئے تھے۔ ساتھ ہی، ایپسٹین کی ای میلز سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ٹرمپ اس فنانسر کے جنسی استحصال سے واقف تھے، تاہم امریکی صدر نے اس میں کسی قسم کی شمولیت یا علم سے انکار کیا ہے۔
یہ انکشاف اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ ایپسٹین نہ صرف دنیا کی طاقتور شخصیات کے حلقوں میں موجود تھا بلکہ ان کے خیالات اور جائزے عالمی سیاست کے بارے میں کافی متاثر کن اور متنازعہ بھی رہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایپسٹین نے کے لیے
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔