data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251110-03-5
روزینہ خورشید
اُفففف… خدایا سڑکوں کا کیا حال ہو گیا ہے۔ جگہ جگہ بڑے بڑے گڑھے، کہیں مٹی کے چھوٹے چھوٹے تودے، کہیں پتھروں کے چھوٹے ٹیلے، کہیں اُبلتے گٹر، کہیں کچرے کے انبار۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے دل نہیں کرتا ہے گھر سے نکلنے کو۔ کب ٹھیک ہوگا سب کچھ؟ ہم جو خوشی خوشی تیار ہو کر میاں کے ساتھ موٹر سائیکل پر پارک جانے کے لیے نکلے تھے سڑکوں کی حالت زار دیکھ کر حسرت سے پوچھا؟؟ انہوں نے جیسے ہی جواب دینے کے لیے توجہ ہماری جانب مبذول کی سامنے پھرچھوٹا سا گڑھا موجود تھا۔ موٹر سائیکل ہوا میں اچھلی، ہلکی سی ڈگمگائی لیکن شکر ہے گری نہیں۔ ہماری ساری خوشی ویسے ہی ہوا ہو گئی تھی سروائیکل پین شروع ہو چکا تھا لہٰذا ہم نے ان سے واپس چلنے کو کہا لیکن جواب سن کر دوبارہ کچھ بولنے کا یارا نہ رہا کہنے لگے ’’ارے آپ اتنے سے سفر میں پریشان ہو گئیں!! ہم سے پوچھیں جو روزانہ غم روزگار کے لیے انہی سڑکوں پر کئی کئی کلو میٹر کا سفر طے کرتے ہیں ہمارے جوڑ و بند کا کیا حال ہوتا ہوگا۔ شکر کریں آپ گرے بغیر گھر واپس جا رہی ہیں ورنہ آج کل موٹر سائیکل والوں کی اکثریت ان گڑھوں کا شکار ہو کر اسپتال پہنچ رہی ہے۔ یہ صرف ایک گھر کی کہانی نہیں ہے کراچی میں بسنے والا ہر شخص کہیں نہ کہیں اس صورتحال سے دو چار ہے۔ خاص کر وہ لوگ جن کا گھر ان کے دفتروں سے فاصلے پر ہے اور جنہیں خود ڈرائیو کر کے جانا پڑتا ہے وہ دوہری اذیت کا شکار ہوتے ہیں ایک تو ٹوٹی پھوٹی سڑکیں جن پہ ہچکولے کھا کے سفر کرنا اور دوسرے ٹریفک جام کی اذیت میں مبتلا ہونا کہ جہاں ایک گھنٹے کا سفر چار گھنٹوں میں طے کرنا پڑتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کراچی کی موجودہ صورتحال نے لوگوں کو ڈپریشن کا مریض بنا دیا ہے۔
چند دہائیاں پہلے تک شہر کراچی ایسا نہیں تھا۔ یہ تو روشنیوں کا شہر ہوا کرتا تھا۔ یہاں کی ہوائیں بھی زہریلی نہیں تھیں اب تو ایک رپورٹ کے مطابق آلودہ شہروں میں کراچی دسویں نمبر پر آگیا ہے۔ پہلے بارشوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش نہیں کیا کرتی تھیں، نہ نالوں میں ڈوبنے کے حادثات رونما ہوا کرتے تھے، مائیں بے خطر بچوں کو چیزیں لینے محلے کی دکان بھیج دیا کرتی تھیں، خواتین اپنے سونے گہنے بھی آرام سے پہن کر گھر سے باہر نکلتی تھیں، نہ چھننے کا خوف نہ لٹنے کا ڈر، مرد حضرات بے خوف و خطر دفتر سے اپنی تنخواہ وصول کر کے با آسانی گھر لے آتے تھے۔ اب تو حال یکسر مختلف ہے ہر شہری ایک انجانے خوف میں مبتلا ہے۔ گھر سے نکلنے سے پہلے مائیں قرآنی آیات کا دم کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہدایات کرتی ہیں کہ بیٹا کوئی موبائل چھیننے آئے تو بحث مت کرنا بلکہ فوراً نکال کر حوالے کر دینا موبائل کا کیا ہے دوسرا آجائے گا۔ اسی طرح اے ٹی ایم سے رقم نکالنے جائیں تو ہدایات دیتی نظر آتی ہیں بیٹا دیکھ کر اندر جانا کوئی مشکوک بندہ باہر نظر آئے تو واپس آ جانا۔ اگر کوئی پیچھا کرتا ہوا دروازے تک آ جائے تو فوراً ساری رقم اس کے ہاتھ پر رکھ دینا کیونکہ جان ہے تو جہان ہے اور اب تو ایک اور ہدایت کا اضافہ ہو گیا ہے کہ بیٹا گڑھے پر بائیک آرام سے نکالنا خود بھی بچنا دوسروں کو بھی بچانا۔ اگر کہیں سڑک پر کوئی مٹی کا تودہ ہو تو رانگ سائیڈ سے بالکل نہ آنا ورنہ ای چالان بھیج دیا جائے گا اور وہ بھی سیکڑوں میں نہیں بلکہ ہزاروں میں۔
آج کل شہر کراچی کے باسی ای چالان کے زد میں ہیں کیونکہ کیمرے کی آنکھ ان سب لوگوں کو دیکھ رہی ہے جو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اسے دن دہاڑے ڈکیتی کرنے والے لوگ نظر نہیں آتے، موبائل چھیننے والے نظر نہیں آتے لوگوں کو لوٹنے کے دوران جان سے مار دینے والے نظر نہیں آتے، رشوت لیتے ہوئے پولیس اہلکار نظر نہیں آتے، بچوں کو اغوا کرنے والے افراد نظر نہیں آتے، گاڑی چور نظر نہیں آتے ہاں اگر کوئی سیٹ بیلٹ نہ باندھے تو کیمرے کی آنکھ اسے دیکھ لیتی ہے لہٰذا پیارے لوگو ’’زرا سنبھل کر رہنا‘‘۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نظر نہیں ا تے
پڑھیں:
ناتمام (آخری قسط)
ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘
’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘
مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔
ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘
پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"
پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔
بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘
کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔
پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔
الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔
کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔
’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘
ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔