Jasarat News:
2026-07-24@04:46:24 GMT

ذرا سنبھل کے

اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251110-03-5

 

روزینہ خورشید

اُفففف… خدایا سڑکوں کا کیا حال ہو گیا ہے۔ جگہ جگہ بڑے بڑے گڑھے، کہیں مٹی کے چھوٹے چھوٹے تودے، کہیں پتھروں کے چھوٹے ٹیلے، کہیں اُبلتے گٹر، کہیں کچرے کے انبار۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے دل نہیں کرتا ہے گھر سے نکلنے کو۔ کب ٹھیک ہوگا سب کچھ؟ ہم جو خوشی خوشی تیار ہو کر میاں کے ساتھ موٹر سائیکل پر پارک جانے کے لیے نکلے تھے سڑکوں کی حالت زار دیکھ کر حسرت سے پوچھا؟؟ انہوں نے جیسے ہی جواب دینے کے لیے توجہ ہماری جانب مبذول کی سامنے پھرچھوٹا سا گڑھا موجود تھا۔ موٹر سائیکل ہوا میں اچھلی، ہلکی سی ڈگمگائی لیکن شکر ہے گری نہیں۔ ہماری ساری خوشی ویسے ہی ہوا ہو گئی تھی سروائیکل پین شروع ہو چکا تھا لہٰذا ہم نے ان سے واپس چلنے کو کہا لیکن جواب سن کر دوبارہ کچھ بولنے کا یارا نہ رہا کہنے لگے ’’ارے آپ اتنے سے سفر میں پریشان ہو گئیں!! ہم سے پوچھیں جو روزانہ غم روزگار کے لیے انہی سڑکوں پر کئی کئی کلو میٹر کا سفر طے کرتے ہیں ہمارے جوڑ و بند کا کیا حال ہوتا ہوگا۔ شکر کریں آپ گرے بغیر گھر واپس جا رہی ہیں ورنہ آج کل موٹر سائیکل والوں کی اکثریت ان گڑھوں کا شکار ہو کر اسپتال پہنچ رہی ہے۔ یہ صرف ایک گھر کی کہانی نہیں ہے کراچی میں بسنے والا ہر شخص کہیں نہ کہیں اس صورتحال سے دو چار ہے۔ خاص کر وہ لوگ جن کا گھر ان کے دفتروں سے فاصلے پر ہے اور جنہیں خود ڈرائیو کر کے جانا پڑتا ہے وہ دوہری اذیت کا شکار ہوتے ہیں ایک تو ٹوٹی پھوٹی سڑکیں جن پہ ہچکولے کھا کے سفر کرنا اور دوسرے ٹریفک جام کی اذیت میں مبتلا ہونا کہ جہاں ایک گھنٹے کا سفر چار گھنٹوں میں طے کرنا پڑتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کراچی کی موجودہ صورتحال نے لوگوں کو ڈپریشن کا مریض بنا دیا ہے۔

چند دہائیاں پہلے تک شہر کراچی ایسا نہیں تھا۔ یہ تو روشنیوں کا شہر ہوا کرتا تھا۔ یہاں کی ہوائیں بھی زہریلی نہیں تھیں اب تو ایک رپورٹ کے مطابق آلودہ شہروں میں کراچی دسویں نمبر پر آگیا ہے۔ پہلے بارشوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش نہیں کیا کرتی تھیں، نہ نالوں میں ڈوبنے کے حادثات رونما ہوا کرتے تھے، مائیں بے خطر بچوں کو چیزیں لینے محلے کی دکان بھیج دیا کرتی تھیں، خواتین اپنے سونے گہنے بھی آرام سے پہن کر گھر سے باہر نکلتی تھیں، نہ چھننے کا خوف نہ لٹنے کا ڈر، مرد حضرات بے خوف و خطر دفتر سے اپنی تنخواہ وصول کر کے با آسانی گھر لے آتے تھے۔ اب تو حال یکسر مختلف ہے ہر شہری ایک انجانے خوف میں مبتلا ہے۔ گھر سے نکلنے سے پہلے مائیں قرآنی آیات کا دم کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہدایات کرتی ہیں کہ بیٹا کوئی موبائل چھیننے آئے تو بحث مت کرنا بلکہ فوراً نکال کر حوالے کر دینا موبائل کا کیا ہے دوسرا آجائے گا۔ اسی طرح اے ٹی ایم سے رقم نکالنے جائیں تو ہدایات دیتی نظر آتی ہیں بیٹا دیکھ کر اندر جانا کوئی مشکوک بندہ باہر نظر آئے تو واپس آ جانا۔ اگر کوئی پیچھا کرتا ہوا دروازے تک آ جائے تو فوراً ساری رقم اس کے ہاتھ پر رکھ دینا کیونکہ جان ہے تو جہان ہے اور اب تو ایک اور ہدایت کا اضافہ ہو گیا ہے کہ بیٹا گڑھے پر بائیک آرام سے نکالنا خود بھی بچنا دوسروں کو بھی بچانا۔ اگر کہیں سڑک پر کوئی مٹی کا تودہ ہو تو رانگ سائیڈ سے بالکل نہ آنا ورنہ ای چالان بھیج دیا جائے گا اور وہ بھی سیکڑوں میں نہیں بلکہ ہزاروں میں۔

آج کل شہر کراچی کے باسی ای چالان کے زد میں ہیں کیونکہ کیمرے کی آنکھ ان سب لوگوں کو دیکھ رہی ہے جو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اسے دن دہاڑے ڈکیتی کرنے والے لوگ نظر نہیں آتے، موبائل چھیننے والے نظر نہیں آتے لوگوں کو لوٹنے کے دوران جان سے مار دینے والے نظر نہیں آتے، رشوت لیتے ہوئے پولیس اہلکار نظر نہیں آتے، بچوں کو اغوا کرنے والے افراد نظر نہیں آتے، گاڑی چور نظر نہیں آتے ہاں اگر کوئی سیٹ بیلٹ نہ باندھے تو کیمرے کی آنکھ اسے دیکھ لیتی ہے لہٰذا پیارے لوگو ’’زرا سنبھل کر رہنا‘‘۔

روزینہ خورشید.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نظر نہیں ا تے

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف