اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان دوستی کا نیا باب رقم ہوگیا ہے۔ چین نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی خلا باز اب چینی خلائی مشن میں پے لوڈ ماہر کے طور پر حصہ لیں گے۔ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے سائنسی و خلائی تعاون کی تاریخی علامت قرار دیا جا رہا ہے، جو پاکستان کی خلائی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

چینی سرکاری میڈیا کے مطابق پاکستانی خلاباز چینی خلابازوں کے ساتھ مشترکہ تربیت حاصل کریں گے اور چین کے خلائی اسٹیشن پروگرام کے درمیانی مدتی منصوبے کا حصہ ہوں گے۔ اس اقدام سے پاکستان کی تکنیکی استعداد میں اضافہ اور دونوں ممالک کے سائنسی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کا کوئی خلا باز کسی دوسرے ملک کے سرکاری خلائی مشن میں عملی طور پر شامل ہوگا، جس سے سُپارکو (خلائی و بالائی فضائی تحقیقاتی کمیشن) کی بین الاقوامی ساکھ میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان خلائی تعاون کئی برسوں سے جاری ہے، تاہم خلا باز کی براہِ راست شمولیت اس تعلق کو ایک نئی بلندی پر لے جائے گی۔ بیجنگ کے مطابق یہ اشتراک مستقبل میں خلائی ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ اعدادوشمار کے تبادلے اور خلائی سلامتی جیسے شعبوں میں بھی نئے مواقع پیدا کرے گا۔ چینی ماہرین کے بقول، پاکستانی خلا باز کی شمولیت اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ چین اپنے دوست ممالک کو سائنسی ترقی میں برابر کا شریک دیکھنا چاہتا ہے۔

مزید برآں گذشتہ چند برسوں میں، ٹیکنالوجی اور خلائی تحقیق نے عالمی سطح پر ترقی کی ایک نئی راہ پر قدم رکھا ہے۔ مصنوعی سیارچے، زمین کی سطح کے نگرانی نظام، ماحولیاتی تبدیلیوں کا تجزیہ، زرعی پیداوار کی پیش گوئی، شہری ترقی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی حکمتِ عملی سب اجزاء اس نئی راہ کے حصہ ہیں۔ ایسے موقع پر پاکستان نے اپنی خلائی تحقیقاتی صلاحیتوں میں ایک سنگِ میل عبور کیا ہے جب خلائی و بالائی فضائی تحقیقاتی کمیشن (سُپارکو) نے اپنے پہلے کثیر طیفی سیٹلائٹ ’’ایچ ایس۔1‘‘ کو کام یابی سے چین کے خلائی مرکز سے مدار میں بھیج دیا ہے۔

یہ صرف ٹیکنالوجی کا حصول نہیں، بلکہ ملک کی معیشت، ماحول، شہری ترقی، خارجہ و داخلہ پالیسی اور بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں بھی متعدد نئے راستے کھولنے والا اقدام ہے۔

پہلے یہ سمجھنا اہم ہے کہ کثیر طیفی (ہائپر اسپیکٹرل) ٹیکنالوجی کیا ہے اور کس طرح یہ روایتی سیٹلائٹ کیمرے سے مختلف ہے۔ ہائپر اسپیکٹرل تصویربندی کا مطلب یہ ہے کہ سیارچہ سطحِ زمین سے واپس آنے والی روشنی کو سینکڑوں باریک طیفی خطوں میں تقسیم کر کے تسلیم کرتا ہے۔ ایسی باریک تبدیلیاں جنہیں انسانی آنکھ یا محدود طیفی خطوں والی روایتی کثیر رنگی سیٹلائٹس نہیں دیکھ سکتیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً کسی فصل کی صحت، مٹی کی نمی، پانی کی مقدار، زمین کی ساخت، شہری علاقے یا ماحولیاتی تبدیلیوں کی تشخیص پہلے سے کہیں زیادہ درست اور تفصیل کے ساتھ ممکن ہوجائے گی۔

ایچ ایس۔1 کا حفاظتی اور ترقیاتی پس منظر بھی مختصر نہیں۔ پاکستان نے اپنی خلائی مہم کو مرحلہ وار آگے بڑھایا ہے، مثلاً ’’پی آر ایس ایس۔1‘‘ (جولائی 2018ء ) کے بعد، حال ہی میں ’’ای۔او۔1‘‘ (جنوری 2025ء ) اور ’’کے۔ایس۔1‘‘ (جولائی 2025ء ) جیسے مشن روانہ کیے گئے تھے۔ ’’ایچ ایس۔1‘‘ اس تسلسل کا ایک نیا باب ہے، جو پاکستان کو روایتی مشاہداتی مرحلے سے کثیر طیفی نقطۂ نظر تک لے جاتا ہے، اور یہ تبدیلی محض تیکنیکی نہیں بلکہ حکمتِ عملی اور نظریاتی سطح پر بھی معنی خیز ہے۔

قومی اور عالمی منظرنامہ

آج جب دنیا موسمیاتی بحران، غذائی تحفظ کے مسائل، شہری بکھراؤ، پانی کی قلت، گلیشیئر کے پگھلنے، ماحولیاتی آلودگی اور قدرتی آفات جیسے چیلنجز سے دوچار ہے، ٹیکنالوجی نے ان مسائل کے حل کے لیے اہم کردار ادا کرنا شروع کیا ہے۔ کثیر طیفی تصویربندی اسی ارتقاء کی علامت ہے۔ ایسے میں ’’ایچ ایس۔1‘‘ کا لانچ نہ صرف قومی سطح پر اہم ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی موجودگی کو مضبوط بناتا ہے۔ علاوہ ازیں، یہ ٹیکنالوجی ملکی سطح پر زرعی پیداوار، ماحول، شہری منصوبہ بندی اور ترقیاتی منصوبوں جیسے چین۔ پاکستان اقتصادی راہداری کی نگرانی کے لیے اہم سمت فراہم کر سکتی ہے۔

مکمل اثرات کا جائزہ

1۔ زرعی شعبہ و غذائی تحفظ: پاکستان کی معیشت میں زراعت ایک مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ ہزارہ، ہاڑ، سندھ، پنجاب، خیبرپختونخواہ سمیت مختلف علاقوں میں فصلوں، مٹی، آبپاشی، بارش و موسم کی تبدیلیاں مستقل چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ ’’ایچ ایس۔1‘‘ کے ذریعے حاصل کی جانے والی تصویریں فصلوں کی صحت، مٹی کی نمی، آبپاشی کے نمونے، پانی کے ذخائر اور حتیٰ کہ پودوں کی تغذیہ کی کمی کا جلد پتہ دے سکتی ہیں۔ سُپارکو کا بیان ہے کہ اس سے پیداوار کے تخمینے میں 15 تا 20 فیصد تک بہتری ممکن ہے۔ یہ معنی خیز ہے کیوںکہ پیداوار میں بہتری، غذائی خود کفالت، برآمدی صلاحیت اور دیہی معیشت کی مضبوطی کے لیے یہ ٹیکنالوجی ایک نیا آئینہ مہیا کرتی ہے۔

2۔ ماحولیاتی نگرانی اور آفات کا مقابلہ: پاکستان شمالی علاقہ جات، برفانی خطوں، سیلابی علاقوں اور زمین سرکنے کے خدشات سے دوچار ہے۔ ’’ایچ ایس۔1‘‘ کی کثیرطیفی تصویربندی سے گلیشیئر پگھلنے کی شرح، جنگلات کی کٹائی، زمین کے کھسکنے کے خطرات، سیلاب کے بعد نقصان، آلودگی و دھند کی تفصیلات اور پانی کی معیار جیسے اشاریے پہلے سے بہتر انداز میں نگرانی کے قابل ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف ردِعملی اقدامات کی بجائے پہلے سے تیاری ممکن ہوگی یعنی خطرات میں کمی کا مرحلہ مضبوط ہوگا۔

3۔ شہری منصوبہ بندی اور بنیادی ڈھانچے کا جائزہ: شہری نشوونما، بے ترتیبی، زمین کے غلط استعمال، پانی اور ماحولیاتی وسائل کی کمی جیسے مسائل کا سامنا پاکستان کے بڑے شہروں کو ہے۔ ’’ایچ ایس۔1‘‘ کی تصویریں شہری علاقوں کی نقشہ بندی، نئی عمارتوں کی نگرانی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، زمینی استعمال میں تبدیلیوں اور شہری وسائل کی تقسیم کے تجزیے میں مددگار ہوں گی۔ یہ ٹیکنالوجی چین۔ پاکستان اقتصادی راہ داری کے تحت ترقیاتی راستوں، شاہراہوں، گوادر بندرگاہ سے منسلک بنیادی ڈھانچے کی نگرانی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

4۔ معاشی اور معاشرتی پہلو: اگرچہ خلائی مشن کی کام یابی بذاتِ خود براہِ راست مالی منافع نہیں لاتی، لیکن یہ ایک علمی سرمایہ کاری ہے۔ ’’ایچ ایس۔1‘‘ سے حاصل شدہ اعدادوشمار فصلوں کی حالت، ماحولیاتی حالات، شہری منصوبہ بندی اور خطرے کی نشان دہی کے لیے نجی شعبے، تحقیقاتی اداروں اور سرکاری منصوبوں کے لیے موزوں ہوسکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو صرف سیٹلائٹ کے اجرا پر نہیں بلکہ اعدادوشمار کے تجزیے، انجنیئرنگ اور اطلاق پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ اس کے لیے تحقیقی اہلکار، جامعات، نجی کمپنیوں، اعدادوشمار کے ماہرین اور حکومتی ادارے مل کر کام کریں گے۔ بصورتِ دیگر یہ تصویریں صرف شاندار مظاہرہ ہی رہ جائیں گی۔

5۔ سفارتی اور تزویراتی جہت: ’’ایچ ایس۔1‘‘ کی لانچ میں چین کے تعاون نے یہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان ٹیکنالوجی، تحقیق اور خلائی شعبے میں چین کے ساتھ شراکت داری کو مضبوط کر رہا ہے۔ یہ نہ صرف ٹیکنالوجی کی منتقلی کا معاملہ ہے بلکہ ایک تزویراتی علامت بھی ہے کہ پاکستان ترقی یافتہ خلائی ٹیکنالوجی کی جانب قدم بڑھا رہا ہے۔ یہ دوسرے ممالک کو بھی یہ پیغام دیتا ہے کہ پاکستان جدید سائنسی اطلاقات کے لحاظ سے سرگرم ملک ہے۔

چیلینجز اور انتباہات

ہر اہم ٹیکنالوجی کے حصول کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی وابستہ ہوتے ہیں۔ ’’ایچ ایس۔1‘‘ کے معاملے میں یہ چند نکات قابلِ ذکر ہیں:

سب سے اہم مسئلہ اعدادوشمار کا مؤثر استعمال ہے۔ تصویریں اور طیفی خط حاصل کرنا پہلا مرحلہ ہے، لیکن اس ڈیٹا کو عملی پالیسی، پروگرام اور نجی شعبے کی سمت میں بدلنا اگلا اور زیادہ اہم مرحلہ ہے۔ اگر یہ مؤثر نہ ہوا تو یہ سیٹلائٹ صرف ایک علامتی کام یابی رہے گی۔

مسلسل سرمایہ کاری، دیکھ بھال اور درجہ افزونی کا نظام قائم رکھنا ضروری ہے۔ صرف سیٹلائٹ بھیج دینا کافی نہیں، اسے جاری رکھنا اور آئندہ نسلوں کے لیے نئی سیارچے تیار کرنا لازمی ہوگا۔ پاکستان کو اپنے خلائی پروگرام کی پائیداری کے لیے حکمتِ عملی مرتب کرنی ہوگی۔

ماہر افرادی قوت کی تربیت بھی لازمی ہے۔ کثیر طیفی تصویربندی، اعدادوشمار کے تجزیے، تحقیق اور اطلاق میں مضبوطی لانا ہوگی۔ تعلیمی ادارے، نجی تحقیقی مراکز اور حکومتی معلوماتی نظام آپس میں مربوط کیے جائیں۔

خارجہ و داخلی پالیسی کی ہم آہنگی بھی ضروری ہے۔ ٹیکنالوجی اور اعدادوشمار کو صرف سائنسی حدود میں محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں قومی منصوبہ بندی، ماحولیاتی پالیسی، زرعی اصلاحات، شہری ترقی اور آفات سے نمٹنے کی حکمتِ عملیوں میں شامل کیا جائے۔

مستقبل کے امکانات و تجاویز

آئندہ کے خدوخال میں ’’ایچ ایس۔1‘‘ کے اثرات مندرجہ ذیل سمتوں میں بڑھ سکتے ہیں:

1۔ اعدادوشمار فراہم کرنے کے بعد انہیں کھلی رسائی کی بنیاد پر حکومتی و نجی شعبے کے لیے دست یاب کیا جائے تاکہ چھوٹے کاشتکار، جامعات، نجی کاروبار اور تحقیقی ادارے اس سے استفادہ کر سکیں۔ اس سے ٹیکنالوجی کا معاشرتی اثر بڑھے گا۔

2۔ بین الاقوامی تعاون: پاکستان ’’ایچ ایس۔1‘‘ کے اعدادوشمار اور ماڈلز کو خطے کے دیگر ممالک مثلاً وسطی ایشیا، افریقہ اور مسلم ممالک کے ساتھ بانٹ سکتا ہے۔ اس سے علاقائی سطح پر تعاون بڑھے گا اور پاکستان علمِ فضائی میں نمایاں مقام حاصل کرے گا۔

3۔ نجی شعبہ اور نئی اختراعات: کثیر طیفی اعدادوشمار کی بنیاد پر زرعی منصوبے، ماحول دوست ٹیکنالوجی کمپنیاں، شہری منصوبہ بندی کے اطلاقات، آفات سے آگاہی خدمات وغیرہ فروغ پائیں گی، جس سے معیشت کو نئی تحریک ملے گی۔

4۔ پالیسی اور حکمتِ عملی: حکومت کو چاہیے کہ ’’ایچ ایس۔1‘‘ کے اعدادوشمار کو قومی زرعی منصوبہ بندی، موسمیاتی تبدیلی، شہری پھیلاؤ، پانی کے وسائل کی نگرانی اور قدرتی آفات کی تیاری کے لیے مربوط بنائے۔ مثلاً اقتصادی راہداری کے راستے، گوادر بندرگاہ، شمالی شاہراہوں اور برفانی خطوں کی نگرانی اس ڈیٹا کے ذریعے ممکن ہو سکتی ہے۔

5۔ تعلیمی نصاب اور تحقیق: جامعات اور تحقیقی ادارے کثیرطیفی تصویربندی، اعداد و شمار کے تجزیے، ارضی معلوماتی نظام (جی۔آئی۔ایس) اور ویب سائٹ کی تیاری کے شعبوں میں خود کو مربوط کریں، تاکہ آئندہ نسلیں تیار ہوں اور ملک کی تحقیقی بنیاد مستحکم ہو۔

آخرکار، ’’ایچ ایس۔1‘‘ کا اجرا پاکستان کے خلائی سفر میں ایک قابلِ ذکر پیش رفت ہے نہ صرف بطور تکنیکی کامیابی بلکہ بطور حکمتِ عملی، معاشی، ماحولیاتی اور معاشرتی تبدیلی کے محرک کے طور پر بھی۔ یہ قوم کو ٹیکنالوجی، تحقیق، معلومات اور عمل کے سنگم کی جانب لے جا سکتا ہے۔ مگر یہ کام یابی تب تک مکمل نہیں ہوگی جب تک یہ ’’تصویر‘‘ سے ’’عمل‘‘ کی طرف نہ بڑھے، جب تک یہ معلومات صرف محفوظ نہ رہیں بلکہ استعمال بھی ہوں، جب تک تعلیمی، نجی اور سرکاری شعبے مل کر اس ٹیکنالوجی کو عملی جامہ نہ پہنائیں۔

پاکستان کے مستقبل کے نقشے میں ’’ایچ ایس۔1‘‘ ایک روشن نکتہ ہے، مگر اسے منظم، مربوط اور مستقل سمت دینے کی ذمہ داری بھی اُسی اعتبار سے اہم ہے۔ اگر ایسا ہوا تو پاکستان نہ صرف اپنے زمینی وسائل، زرعی پیداوار، ماحولیاتی پالیسی، شہری منصوبہ بندی اور آفات سے نمٹنے کی حکمتِ عملی کو بہتر بنا سکے گا بلکہ خطے میں خلائی ٹیکنالوجی کے لحاظ سے خود کو مؤثر اور نمایاں مقام پر کھڑا کر سکے گا۔ یہی وہ منظر عام ہے جو اس اقدام سے جنم لے سکتا ہے، اور یہی وہ چیلینجز ہیں جن کا سدِباب ابھی باقی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شہری منصوبہ بندی اور کا مطلب یہ ہے کہ طیفی تصویربندی اعدادوشمار کے ہے کہ پاکستان پاکستان کی کی نگرانی کثیر طیفی کے تجزیے ایچ ایس 1 کام یابی ا فات سے خلا باز کے ساتھ چین کے کیا ہے کے لیے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان