شفیق موڑپرفائرنگ کے تبادلے میں ایک ملزم ہلاک‘ساتھی زخمی
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)شفیق موڑپاورہاؤس کے قریب شاہین فورس کے اہلکاروں اورمسلح ملزمان کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک ملزم ہلاک اوردوسرے ملزم کو زخمی کو حالت میں گرفتار کرلیا گیا، فائرنگ کے تبادلے میں ایک راہ گیر بھی زخمی ہوا، تفصیلات کے مطابق سمن آباد تھانے کے علاقے فیڈرل بی ایریا بلاک 19 شفیق موڑ پاور ہاؤس اقصیٰ مسجد شاہین فورس کیاہلکاروں اورمسلح ملزمان کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 2 ملزمان کو شدید زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا پولیس اور مسلح ڈکیتوں کے درمیان فائرنگ کی زد میں آکر ایک راہ گیرشہری بھی زخمی ہوا،زخمی حالت میں گرفتار ڈکیتوں اورزخمی راہ گیر شہری کو فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں ایک شدید زخمی ملزم دوران علاج دم توڑ گیاایس ایچ اوسمن آباد بن یامین نے بتایا کہ ہلاک ڈکیت کی شناخت اسامہ اورزخمی حالت میں گرفتارملزم کی شناخت نورمحمد کے نام سے کی گئی جبکہ زخمی راہ گیر شہری کا نام 20 سالہ حسنین ولد مدثرمعلوم ہوا ہے، انھوں نے بتایا کہ زخمی حالت میں گرفتار ملزمان کے قبضے سے چھینے ہوئے2 آئی فون سمیت 4 موبائل فون، پرس ، اسلحہ برآمد کیا گیا ہے پولیس مقابلے میں ہلاک اورزخمی حالت میں گرفتار ملزم کاسابقہ کرمنل ریکارڈ چیک کیاجارہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: زخمی حالت میں گرفتار فائرنگ کے تبادلے میں
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک