میلبرن ایئرپورٹ کے لاؤنج میں پاور بینک پھٹنے سے ہنگامی صورتحال، مسافر زخمی
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
میلبرن: آسٹریلیا کے شہر میلبرن کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اس وقت خوفناک صورتحال پیدا ہوگئی جب ایک مسافر کی جیب میں رکھا لیتھیئم پاور بینک اچانک پھٹ گیا اور آگ بھڑک اٹھی، جس سے وہ بری طرح جھلس گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ قانتس ایئرلائن کے بزنس لاؤنج میں پیش آیا، جہاں پاور بینک نے زیادہ حرارت پیدا ہونے کے باعث آگ پکڑ لی، اچانک دھواں بھر جانے کے بعد لاؤنج میں موجود تقریباً 150 افراد کو فوری طور پر باہر نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق ایئرپورٹ کے عملے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ شخص کو شاور روم میں لے جا کر آگ بجھائی، ابتدائی طبی امداد کے بعد زخمی مسافر کو اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
قانتس ایئرلائن کے ترجمان نے تصدیق کی کہ واقعے کے بعد لیتھیئم بیٹریز اور پاور بینکس کے استعمال سے متعلق پالیسی کا ازسرِنو جائزہ لیا جا رہا ہے اور جلد نئی حفاظتی ہدایات جاری کی جائیں گی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جاسکے۔
قابلِ ذکر ہے کہ کئی بین الاقوامی ایئرلائنز پہلے ہی پاور بینکس کے استعمال اور گنجائش کے حوالے سے سخت اصول لاگو کر چکی ہیں جبکہ بعض نے انہیں طیارے میں استعمال یا چارج کرنے پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔