میلبرن ایئرپورٹ کے لاؤنج میں پاور بینک پھٹنے سے ہنگامی صورتحال، مسافر زخمی
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
میلبرن: آسٹریلیا کے شہر میلبرن کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اس وقت خوفناک صورتحال پیدا ہوگئی جب ایک مسافر کی جیب میں رکھا لیتھیئم پاور بینک اچانک پھٹ گیا اور آگ بھڑک اٹھی، جس سے وہ بری طرح جھلس گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ قانتس ایئرلائن کے بزنس لاؤنج میں پیش آیا، جہاں پاور بینک نے زیادہ حرارت پیدا ہونے کے باعث آگ پکڑ لی، اچانک دھواں بھر جانے کے بعد لاؤنج میں موجود تقریباً 150 افراد کو فوری طور پر باہر نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق ایئرپورٹ کے عملے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ شخص کو شاور روم میں لے جا کر آگ بجھائی، ابتدائی طبی امداد کے بعد زخمی مسافر کو اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
قانتس ایئرلائن کے ترجمان نے تصدیق کی کہ واقعے کے بعد لیتھیئم بیٹریز اور پاور بینکس کے استعمال سے متعلق پالیسی کا ازسرِنو جائزہ لیا جا رہا ہے اور جلد نئی حفاظتی ہدایات جاری کی جائیں گی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جاسکے۔
قابلِ ذکر ہے کہ کئی بین الاقوامی ایئرلائنز پہلے ہی پاور بینکس کے استعمال اور گنجائش کے حوالے سے سخت اصول لاگو کر چکی ہیں جبکہ بعض نے انہیں طیارے میں استعمال یا چارج کرنے پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔