15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
کوپن ہیگن: ڈنمارک حکومت نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے 15 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بچوں کی ذہنی اور سماجی صحت کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔
نئے قانون کے تحت 13 سال سے کم عمر بچے صرف والدین کی اجازت سے مخصوص پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔
ڈنمارک کے وزیراعظم نے گزشتہ ماہ نوجوانوں میں سوشل میڈیا کے منفی اثرات اور ذہنی دباؤ کے بڑھتے خدشات کے پیش نظر پابندی کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
واضح رہے کہ آسٹریلیا نے بھی گزشتہ سال 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی، جس کے بعد ڈنمارک یورپ کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے اس نوعیت کا قدم اٹھایا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ عالمی سطح پر ڈیجیٹل ویلفیئر اور بچوں کے آن لائن تحفظ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سال سے کم عمر سوشل میڈیا میڈیا کے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔