data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نیویارک: ایک تازہ عالمی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جن بچوں کو 13 سال کی عمر سے پہلے اسمارٹ فون دیا جاتا ہے، ان میں بڑے ہونے پر ذہنی صحت کے سنگین مسائل پیدا ہونے کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

بین الاقوامی ماہرین کی ٹیم نے اس تحقیق کے دوران ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں (عمر 18 تا 24 سال) کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا، جس کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ جن بچوں نے 12 سال یا اس سے کم عمر میں فون کا استعمال شروع کیا، وہ جوانی میں ڈپریشن، اضطراب، خوداعتمادی کی کمی، اور خودکشی کے خیالات جیسے مسائل کا زیادہ شکار پائے گئے۔

تحقیق کے مطابق  10 سے 13 سال کی عمر انسانی دماغی نشوونما اور شخصیت کی تعمیر کا نہایت نازک مرحلہ ہے،  اس عمر میں مسلسل فون یا سوشل میڈیا کے استعمال سے بچوں کی جذباتی توازن، توجہ اور سماجی تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ میں خاص طور پر لڑکیوں میں خطرے کی شرح زیادہ دیکھی گئی،  جن لڑکیوں نے 5 یا 6 سال کی عمر میں فون استعمال کرنا شروع کیا، ان میں سے 48 فیصد نے کسی مرحلے پر خودکشی کے خیالات ظاہر کیے جب کہ وہ لڑکیاں جنہیں فون 13 سال کے بعد ملا، ان میں یہ شرح صرف 28 فیصد رہی۔

تحقیق میں تجویز دی گئی ہے کہ بچوں کو 13 سال کی عمر سے پہلے اسمارٹ فون نہ دیا جائے، سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے وقت اور اصول مقرر کیے جائیں،  والدین اور اساتذہ بچوں کو آن لائن سرگرمیوں کے نقصانات سے آگاہ کریں،اسکولوں میں  ڈیجیٹل ویلفیئر پروگرام  متعارف کرائے جائیں۔

ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ گھر میں فون فری زونز قائم کریں اور بچوں کو حقیقی دنیا کی سرگرمیوں جیسے کھیل، مطالعہ اور دوستوں سے بالمشافہ میل جول کی ترغیب دیں تاکہ ان کی ذہنی اور جذباتی صحت متوازن رہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سال کی عمر بچوں کو

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ