بھارت‘ مندر میں بھگدڑ مچنے کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارت‘ مندر میں بھگدڑ مچنے کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافہ
نئی دہلی: بھارت میں گزشتہ دنوں مندر میں بھگدڑ مچ جانے کے باعث ہلاکتوں میں کی تعداد میںمزید اضافہ ہو گیا۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے جنوبی ریاست میں گزشتہ دنوں مندر میں اچانک بھگدڑ مچ جانے سے7 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات تھیں، جو اب بڑھ کر ہلاکتوں کی تعداد30 تک پہنچ گئی ہے۔ اس افسوس ناک واقعے میں درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات تھیں، جس میں مزید ہلاک ہوگئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مذکورہ افسوسناک واقعہ آندھرا پردیش کی سری کاکولم ضلع میں واقع سوامی وینکٹیسوارا مندر میں پیش آیا، جہاں سیکڑوں عقیدت مند مذہبی تہوار میں شرکت کے لیے جمع تھے۔
اعلیٰ حکام کے مطابق دردناک واقعہ ایسے وقت میںپیش آیا جب بڑی تعداد میں لوگ مندر کے احاطے میں بد نظمی سے داخل ہو رہے تھے، جس سے بھگدڑ مچ گئی۔ جس میں متعدد زخمیوں کو قریبی اسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے جو تاحال زیر علاج ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔