تحریک تحفظ آئین پاکستان کا کل سے ملک گیر تحریک شروع کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے قومی اسمبلی و سینیٹ میں نامزد اپوزیشن لیڈر و تحریک تحفظ ائین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور وائس چیئرمین علامہ ناصر عباس نے ملک گیر تحریک کا اعلان کر دیا۔
اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نامزد اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ ناصر عباس نے کہا کہ 1971 میں پاکستان ٹوٹا اب ایک مرتبہ پھر تاریخ کے نازک موڑ پر پہنچ چکا ہے، پاکستان کے اندر جمہوری ادارے مفلوج کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم سیاہ اور تاریک 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف اٹھ کھڑی ہو، کل رات ساڑھے اٹھ بجے پوری قوم اٹھ کر ایک ہی نعرہ لگائے گی اور وہ یہ ہوگا کہ "ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا"۔
راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ہر ایک نے مرد و زن نے ہر پیر نے پاکستان اور دستور کا نعرہ لگانا ہے۔
نامزد اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ دنیا میں آئین ریاست اور وہاں کے باسیوں کے درمیان عمرانی معاہدہ ہوتا ہے، آئین سے مسلسل کھلواڑ کیا جا رہا ہے مجھ سے ائین کے تحفظ کا پانچ بار حلف لیا گیا ہے، آئین پر پارلیمنٹ حملہ اور ہے اور اس وقت پارلیمنٹ ڈیبیٹنگ سوسائٹی کی طرح کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو کوئی نہیں مان رہا نہ ان کو تسلیم کر رہا لہذا ہم عوام کے پاس جا رہے ہیں، عوام بھی پوچھتے رہے کہ کب تحریک ابتدا ہونی ہے، جس طرح یہ پارلیمان پر اور آئین پر حملہ اور ہوئے ہیں اب تحریک کی ابتدا ہو رہی ہے۔
محمود خان اچکزئ ینے کہا کہ جس طرح یہ آئین کی بنیادوں کو ہلا رہے ہیں ہمارے پاس اس تحریک کے سوا کوئی چارہ نہیں، ہم تمام وطن دوست جماعتوں اور شخصیات اور گروہوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اٹھ کھڑے ہوں
کل رات سے ہماری ملک گیر تحریک شروع ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اللہ اکبر کہہ کر جو علامہ ناصر عباس نے کہا اس پر عمل کرتے ہوئے اگے بڑھنا ہے،
ہمارا کل رات سے ایک ہی نعرہ ہوگا جمہوریت زندہ باد آمریت مردہ باد، ہمارا تیسرا نعرہ قیدیوں کو رہا کرنے سے متعلق ہوگا۔
محمود خان کا کہنا تھا کہ ہم نے ہر شب و روز پاکستانی عوام کے ساتھ ایک نئے نعرے کو لے کر آگے بڑھنا ہے، تکبر میں مبتلا حکمرانوں کو ہم بتائیں گے کہ ہم ان کا راستہ روک سکتے ہیں، ہم بتائیں گے کہ پاکستان کی عوام جو چاہے گی وہی فیصلہ ہوگا اور آئین بالادست ہوگا پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز