Jasarat News:
2026-06-03@07:26:44 GMT

ڈنمارک : بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کوپن ہیگن (انٹرنیشنل ڈیسک) ڈنمارک کی حکومت نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیا۔ اس اقدام کا مقصد کم عمر بچوں کو غیر مناسب مواد سے محفوظ رکھنا ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق اس اقدام کا مقصد کم عمر بچوں کوآن لائن خطرات، نفسیاتی دباؤ اور غیر مناسب مواد سے محفوظ رکھنا ہے۔بچوں کو صرف چند مخصوص اور نگرانی شدہ پلیٹ فارمز تک رسائی کی اجازت ہوگی۔ پارلیمان کی اکثریت نے منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ والدین اور تعلیمی ادارے بھی بچوں کے ڈیجیٹل استعمال کی نگرانی میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں گے۔ والدین کو یہ اجازت دی جائے گی کہ وہ 13 سال سے زیادہ عمر کے بچوں کو مخصوص پلیٹ فارمز تک رسائی کی خصوصی اجازت دے سکیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ وزیرِ اعظم میٹے فریڈرکسن نے پارلیمان کے افتتاحی خطاب میں بچوں کی ذہنی صحت سے متعلق بڑھتی تشویش کے پیشِ نظر سوشل میڈیا پر پابندیاں عائد کرنے کی تجویز دی تھی۔ ڈیجیٹلائزیشن وزیر کیرولین اسٹاج اولسن نے کہاکہ نام نہاد سوشل میڈیا ہمارے بچوں کا وقت، ان کا بچپن اور ان کی ذہنی آسودگی چھین رہا ہے، اور اب ہم اس کا خاتمہ کر رہے ہیں۔ ڈنمارک میں بچوں کے استعمال میں سب سے زیادہ آنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں اسنیپ چیٹ، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک شامل ہیں۔ ڈنمارک کی ایک اتھارٹی کی فروری کی ایک رپورٹ کے مطابق نوجوان روزانہ اوسطاً 2 گھنٹے 40 منٹ سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔ڈنمارک اس سلسلے میں آسٹریلیا کے نقشِ قدم پر چل رہا ہے، جس نے گزشتہ سال 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کی تھی۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کم عمر بچوں سوشل میڈیا بچوں کے بچوں کو

پڑھیں:

روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ

طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔

بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ

دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔

افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • طاہرہ سید کے انتقال کی افواہیں، گلوکارہ کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت