فاسٹ بولر عرفان جونیئر پر آسٹریلیا میں بال ٹیمپرنگ کا جرم ثابت
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
پاکستان کے فاسٹ بولر عرفان جونیئر پر آسٹریلیا میں بال ٹیمپرنگ کا جرم ثابت ہوگیا۔
آسٹریلوی میڈیا کے مطابق عرفان جونیئر پر پانچ میچز کے لیے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
آسٹریلوی میڈیا کا کہنا ہے کہ امپائرز نے وکٹوریا پریمیئر شپ میچ کے دوران بال کی حالت خراب کرنے پر عرفان جونیئر پر بال ٹیمپرنگ کا الزام عائد کیا تھا۔
کرکٹ وکٹوریا کے ٹریبونل نے جرم ثابت ہونے پر پابندی کا اعلان کیا ہے، عرفان جونیئر اب آسٹریلیا میں ہی ڈومیسٹک کرکٹ کھیلتے ہیں۔
وہ پاکستان میں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتے رہے ہیں، عرفان جونیئر پاکستان سپر لیگ میں بھی مختلف فرنچائزز کی جانب سے کھیلے ہوئے ہیں۔
چند برس قبل عرفان جونیئر آسٹریلیا منتقل ہو گئے تھے، ان پر آسٹریلیا میں لوکل کرکٹ کلب کرکٹ کھیلنے کے بعد ڈومیسٹک کرکٹ ٹورنامنٹس کھیلنے کے اہل ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عرفان جونیئر پر آسٹریلیا میں
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔