محکمہ تعلیم کے لوئر اسٹاف کا 28ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کیخلاف احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251110-2-14
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) محکمہ تعلیم حیدرآباد کے لوئر اسٹاف ملازمین نے خود کو رسیوں سے باندھ کر 28 ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف علامتی احتجاج کیا جس کے باعث ٹریفک معطل ہوگئی۔ اس موقع پر گلاب رند، اسد ملکانی، سید معظم علی شاہ اور دیگر نے کہا کہ محکمہ تعلیم حیدرآباد کے نچلے عملے کی 2021 میں خالی آسامیوں کا اخبارات میں اشتہار دیا گیا تھا، جس کے مطابق ملازمتوں کے لیے درخواستیں جمع کرانے کے بعد 2022 میں انٹرویو اور 2023 میں آفر آرڈر جاری کیے گئے، لیکن مختلف اسکولوں میں پاس ہونے کے باوجود 628 امیدواروں کو نوکری دی گئی۔ اس دوران کئی ماہ کی تنخواہیں جاری نہیں کی گئیں جو کہ سوئے ہوئے ملازمین کا معاشی قتل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے محکمہ تعلیم سمیت سندھ حکومت کو درخواستیں دی ہیں لیکن تنخواہیں جاری نہیں کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے تنخواہوں کے لیے مرتے دم تک بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے جو کہ تنخواہیں ملنے تک جاری رہے گی۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے اپیل کی ہے کہ 28 ماہ کی بقیہ تنخواہیں جاری کرکے انصاف یقینی بنایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محکمہ تعلیم
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
اسلام آباد: ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، جہاں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نئے نرخوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے کے بعد سے ہوگا۔
اوگرا کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔
حکام کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر رات 12 بجے کے بعد سے ہوگا، جس کے بعد ملک بھر کے تمام پیٹرول پمپس پر نئے نرخ نافذ ہو جائیں گے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے اثرات پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ گزشتہ چند روز کے دوران بھی مختلف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متعدد بار اضافہ کیا جا چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خور و نوش اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، جس کے باعث مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
نئی قیمتیں ایک نظر میں
پیٹرول: 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر (4.40 روپے اضافہ)
ہائی اسپیڈ ڈیزل: 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر (3.62 روپے اضافہ)
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ قیمتیں آئندہ حکم نامے تک نافذ العمل رہیں گی۔