WE News:
2026-07-24@03:18:40 GMT

بحیرہ کیریبین میں ’دہشت گرد‘ کشتی پر امریکی حملہ، 3 ہلاک

اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT

امریکی فوج نے کیریبین میں ایک کشتی پر حملہ کیا ہے، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے مطابق مذکورہ حملے میں 3 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

پیٹ ہیگسیتھ نے سوشل میڈیاپلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر، محکمہ جنگ نے ایک کشتی پر مہلک حملہ کیا جو ایک نامزد دہشت گرد تنظیم کے زیر انتظام تھا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کا طیارہ بردار بحری بیڑا کیریبین روانہ، منشیات بردار کشتیوں کیخلاف کارروائیاں تیز

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی فورسز اس حملے میں محفوظ رہیں۔’یہ کشتی بحیرہ کیریبین میں منشیات کی اسمگلنگ کر رہا تھی جسے بین الاقوامی پانیوں میں نشانہ بنایا گیا۔‘

The US military killed three men in a strike on a suspected drug vessel in international waters in the Caribbean on November 6, US Defense Secretary Pete Hegseth said https://t.

co/MD05bjTXEq

— Reuters (@Reuters) November 7, 2025

امریکی فوج نے اب تک 17 حملوں میں 70 افراد کو ہلاک کیا ہے اور 18 کشتیوں کو تباہ کیا ہے، جسے واشنگٹن منشیات کی اسمگلنگ کے امریکی منڈی میں داخلے کو روکنے کے لیے اپنی مہم کا حصہ قرار دیتا ہے۔

ان حملوں میں 3 افراد زندہ بچ گئے، جن میں سے 2 کو امریکی بحریہ نے عارضی طور پر حراست میں لیا تھا۔

مزید پڑھیں: منشیات امریکا اسمگل کرنے والی آبدوز تباہ، ٹرمپ کا 25000 امریکیوں کو موت سے بچانے کا دعویٰ

بعد میں انہیں ان کے ممالک واپس بھیج دیا گیا، تیسرے فرد کو مردہ سمجھا جا رہا ہے کیونکہ میکسیکو کی بحریہ نے ان کی نعش کی تلاش کی تھی۔

جبکہ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی فوج کے لیے بغیر عدالتی جائزے کے مہلک حملے کرنے کا اختیار حاصل ہے، جس کا جواز ایک خفیہ وزارت انصاف کی رپورٹ سے ملتا ہے۔

کانگریس کے کچھ ارکان اور انسانی حقوق کے گروپوں نے اس رپورٹ پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ممکنہ منشیات کے اسمگلروں کو مقدمہ چلایا جانا چاہیے، جیسا کہ اس سے پہلے امریکی پالیسی تھی جب تک صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ابھی تک یہ عوامی ثبوت فراہم نہیں کیا کہ جن کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا، ان میں منشیات موجود تھیں یا ان کا منشیات کے کارٹلز سے تعلق تھا۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا وینزویلا سے آنے والی کشتی پر حملے، 11 منشیات فروشوں کی ہلاکت کا دعویٰ

ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو منشیات کی اسمگلنگ سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ اس نے دارالحکومت کے قریب ایک بڑی فوجی موجودگی برقرار رکھی ہے، حالانکہ وینزویلا امریکا کی منشیات کی مارکیٹ کے لیے اہم کوکین فراہم کنندہ کے طور پر نہیں جانا جاتا۔

انتظامیہ کے عہدیداروں نے گزشتہ روز قانون سازوں کو بتایا کہ امریکا اس وقت وینزویلا میں حملوں کی منصوبہ بندی نہیں کر رہا اور نہ ہی کسی بھی زمینی ہدف کے خلاف حملے کے لیے قانونی جواز موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی فوج امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ بحریہ ٹرمپ انتظامیہ صدر نیکولس مادورو کوکین کیریبین منشیات وینزویلا

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی فوج امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ بحریہ ٹرمپ انتظامیہ صدر نیکولس مادورو کوکین کیریبین منشیات وینزویلا امریکی فوج منشیات کی کشتی پر کے لیے

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔

ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل