ائیرکرافٹ انجینئرز کا احتجاج، ملک بھر میں قومی ائیرلائن کا فلائٹ آپریشن رک گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
قومی ائیرلائن انتظامیہ اور ائیرکرافٹ انجینئرز کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کرگیا ہے، قومی ائیرلائن کے ائیرکرافٹ انجینئرز نے طیاروں کی کلیئرنس روک دی جس سے ملک بھر میں قومی ائیرلائن کا فلائٹ آپریشن رک گیا۔ذرائع کے مطابق ائیرکرافٹ انجینئرز کے احتجاج کی وجہ سے قومی ائیرلائن کی پروازیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ پیر کی رات 8 بجے کے بعد سے قومی ائیرلائن کی بین الاقوامی پروازیں روانہ نہیں ہو سکیں، 12 بین الاقوامی پروازیں متاثر ہونے سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرہ مسافروں میں ایک بڑی تعداد عمرہ زائرین کی ہے۔سوسائٹی آف ائیرکرافٹ انجینئرز کے مطابق وہ سی ای او قومی ائیرلائن کا رویہ ٹھیک ہونے تک کام نہیں کرینگے اور انہوں نے طیاروں کو اڑان کے لیے کلیئرنس دینے سے روک دیا ہے۔ ذرائع سیپ کے مطابق ائیرکرافٹ انجینئرز اپنے مطالبات کے حق میں ڈھائی ماہ سے بازو پر کالی پٹیاں باندھ کر ڈیوٹی انجام دے رہے تھے، طویل پُرامن احتجاج کے باوجود قومی ائیرلائن کی انتظامیہ بات کرنے کےلیے تیار نہیں تھی۔ذرائع سیپ کے مطابق ائیر کرافٹ انجینئرز کی تنخواہیں 8 سال سے نہیں بڑھائی گئیں، ائیر لائن کے پاس طیاروں کے فاضل پرزہ جات کی شدید کمی ہے، دعویٰ کیا گیا کہ انجینئرز پر طیاروں کے قوائد کے خلاف پرواز کے لیے کلیئرنس دینے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔سوسائٹی آف ائیرکرافٹ انجینئرز کے مطابق وہ ایئر لائن انتظامیہ کے دباؤ پر مسافروں کی زندگی خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ادھر قومی ائیرلائن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ( سی ای او ) نے ائیرکرافٹ انجینئرز کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات جاری کردیے۔ سی ای او قومی ائیرلائن نے کہا کہ طیاروں کے آپریشن متاثر ہونے پر ملوث تمام ائیرکرافٹ انجینئرز کیخلاف سخت کارروائی کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ائیرکرافٹ انجینئرز کے قومی ائیرلائن کے مطابق
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔