data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251104-08-17

 

لاہور(نمائندہ جسارت)پاکستان انٹرنیشنل بزنس فورم (PIBF) نے جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے معیشت کی بحالی کے لیے قومی مکالمہ منعقد کرنے کے فیصلے کا زبردست خیر مقدم کیا ہے۔ یہ مکالمہ بعنوان ”Resolution of the Economy — Ending Poverty through Business Empowerment and Interest-Free Loans” یعنی’’معاشی استحکام کی قرارداد ، کاروباری خودمختاری اور بلا سود قرضوں کے ذریعے غربت کا خاتمہ‘‘22 اور 23 نومبر 2025 کو مینارِ پاکستان لاہور میں 3 روزہ اجتماع عام کے موقع پر منعقد کیا جائے گا۔پی آئی بی ایف کی قیادت محمد اعجاز تنویر، عبد الودود علوی، حافظ محمود اور الماس قاضی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ جماعت اسلامی کا یہ اقدام بروقت اور قومی ضرورت کے عین مطابق ہے، جو ماہرین معیشت، ٹیکنوکریٹس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کی سمت ایک مثبت قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت شدید معاشی بحران سے دوچار ہے، ایسے میں یہ قومی مکالمہ ایک متحدہ اور قابل عمل روڈ میپ (Roadmap) تشکیل دینے میں مدد دے گا۔فورم کے رہنماؤں نے کہا کہ کاروباری برادری ان تمام کوششوں کی بھرپور حمایت کرتی ہے جو ملک میں معاشی استحکام، خود انحصاری اور بلا سود مالیاتی نظام کے فروغ کا باعث بنیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پی آئی بی ایف اس اجتماعی کاوش میں بھرپور شرکت اور تعاون فراہم کرے گا تاکہ ”Economic Resolution 2025” کے نام سے ایک جامع اور عوامی شمولیت پر مبنی معاشی لائحہ عمل تیار کیا جا سکے، جس کی روح پاکستان قرارداد 1940 سے متاثر ہے۔تاجر رہنماؤں نے جماعت اسلامی کی جانب سے نوجوانوں میں کاروباری رجحان، فنی تربیت اور آئی ٹی تعلیم کے فروغ کے لیے شروع کیے گئے ’’بنو قابل آئی ٹی پروگرام‘‘ کو بھی سراہا۔ پی آئی بی ایف کے مطابق یہ پروگرام نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے اور پاکستان کے انسانی سرمائے کو مضبوط بنانے کے لیے جماعت اسلامی کے نظریے اور فورم کے اپنے مشن سے ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ قومی معاشی مکالمہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط، خود کفیل اور اخلاقی بنیادوں پر استوار کرنے کی ایک منظم قومی تحریک کا آغاز ثابت ہوگا۔

 

نمائندہ جسارت.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پی ا ئی بی ایف جماعت اسلامی

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی