مشرق وسطیٰ میں نئی تبدیلیاں
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
ہماری کائنات کی عمر 1380 کروڑ سال ہے۔ گوگل نے ایک پاور فل چپ بنائی ہے ۔ جس کا نام Willow چپ ہے جو ثابت کرتی ہے کہ ہماری کائنات سنگل نہیں ملٹی پل یونیورس ہے ۔ یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات ایک سے زیادہ ہیں ۔ جب کہ موجودہ کائنات میں ہی کروڑوں کہکشائیں ہیں اور ان میں ہر ایک میں اربوں ستارے ہیں ۔جن کا فاصلہ زمین سے کروڑوں نوری سال کے فاصلے پر ہے ۔
روشنی 3لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کے حساب سے سفر کرتی ہے ۔اس کو آپ دنوں، ہفتوں، مہینوں اور سال میں ضرب دیتے جائیں تو اسے ایک نوری سال کہتے ہیں ۔ کوانٹم کمپیوٹر کی وجہ سے اتنی تیزی آئے گی کہ جو کام 30، 50 ،70سال میں ہو گا وہی کام صرف 6ماہ میں ہوجائے گا۔ لاعلاج امراض کینسر شوگر وغیرہ کی ادویات بہت کم وقت میں دریافت ہوجائیں گی ۔ کوانٹم کمپیوٹرکی بدولت مستقبل میں انسان کی عمر بڑھ کر ڈیڑھ سو سے دوسو برس تک ہوجائے گی ۔ تازہ ترین امریکی سروے کے مطابق 71فیصد امریکی نوجوان جن کی عمریں 19سال سے کم ہیں دماغی بیماریوں کا شکار ہیں یا ہونے جارہے ہیں ۔
عدد71فیصد پر غور فرمائیں یعنی ذہنی طور پر صحتمند امریکی نوجوان صرف 29فیصد ہی رہ جاتے ہیں ۔ اس کی وجہ موبائل اور لیپ ٹاپ اسکرین اور اس کی نیلی روشنی ہے اسکولوں، کالجوں ، یونیورسٹیوں میں طالبعلموں پر پڑھائی کا بے پناہ بوجھ ہے ۔ ان کے پاس اتنا وقت بھی نہیں بچتا کہ وہ کھیل کود اور دیگر سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں ۔ گھر کے لیے بھی انھیں اتنا ہوم ورک دے دیا جاتا ہے کہ انھیں سر کھجانے کا موقع نہیں ملتا یہاں تک کہ وہ صحیح سو بھی نہیں پاتے اس طرح سے ہماری نوجوان نسل بڑی تیزی سے نوجوانی میں ہی ان دماغی بیماریوں میں مبتلا ہو رہی ہے جس کا امکان بڑھاپے میں ہوتا ہے ۔ اس کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ ہم اپنے نظام تعلیم کا از سر نو جائزہ لے کر اسے نوجوان نسل کے لیے سہل بنائیں ۔ ہمارا نظام تعلیم اس لیے بھی مشکل ترین بن گیا ہے کہ ذریعہ تعلیم انگریزی ہے۔ جس کے لیے ہمیں انگریزی سیکھنا پڑتی ہے ۔
خاص طور پر سائنسی مضامین انگریزی میں ہیں دوسرے ملکوں کے برعکس جب کہ دنیا کے انتہائی ترقی یافتہ ملکوں کا ذریعہ تعلیم ان کی اپنی مادری زبان میں ہے ۔ خاص طور پر چین ، فرانس ، جرمنی ،جاپان، سنگا پور ، ملیشیاء اور ترکی وغیرہ ہیں ۔ ان ملکوں میں بھی انگریزی زبان سیکھی اورپڑھی جاتی ہے ۔ لیکن اسے اوڑھنا بچھوڑنا نہیں بنایا جاتا۔ مندرجہ بالا یہ تمام ممالک اپنی مادری زبان میں ہی سائنسی مضامین پڑھ کر سائنس اور ٹیکنالوجی میں اعلیٰ ترین مقام پر ہیں ۔
ہمارے ہاں ذریعہ تعلیم انگریزی ہونے کا نتیجہ یہ ہے کہ طالبعلموں کو انگریزی میں مہارت حاصل کرنے کے لیے انگریزی سیکھنا پڑتی ہے ۔ دوسرا سائنسی مشکل مضامین کو انگریزی میں پڑھنا اور سمجھنا ہوتا ہے یہ تو دوہری محنت ومشقت ہے ۔ مادری زبانوں میں سائنسی مضامین پڑھنا سمجھنا اور مہارت حاصل کرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ ان مندرجہ بالا ملکوں نے ترقی کی دوڑ میں تمام دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ انگریزوں نے پاکستان چھوڑتے وقت جس اشرافیہ کو اقتدار منتقل کیا وہ انگریزی زبان میں مہارت رکھتی تھی۔ ان کی بھی پالیسی یہی تھی کہ عوام پر اپنی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے مادری زبان کے بجائے انگریزی کو پاکستانی عوام پر مسلط کیا جائے ۔ انھوں نے اپنے لیے اعلیٰ تعلیمی ادارے بنائے باقی پاکستانی عوام کو فرسودہ اور پسماندہ نظام تعلیم کے حوالے کردیا۔
عام امتحانوں کو تو ایک طرف چھوڑیں اعلیٰ تعلیمی امتحانات میں پرچہ لیک اور نقل ہونا عام سی بات بن گئی ہے ۔ بقول عظیم افریقی لیڈر نیلسن منڈیلا کے کسی بھی قوم کو مستقل پسماندہ زیر نگیں رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ پرچے لیک اور نقل کو معمول بنا دیا جائے ۔ نالائق اور کم اہلیت کے اساتذہ بھرتی کیے جائیں ۔ انگریزی زبان کو ہتھیار بنا کر اس اشرافیہ نے پاکستانی عوام کو صدیوں سے اپنا غلام بنایا ہوا ہے۔ان کی بودی دلیل یہ ہے کہ اگر نظام تعلیم انگریزی میں نہ ہوا تو پاکستان ترقی کیسے کرے گا۔ جواب یہ ہے کہ یورپی ممالک روس ، چین ، امریکا ، جاپان ، جرمنی ، فرانس آخر اپنی مادری زبان ہی کے ذریعے ترقی کے بام عروج پر پہنچے ہیں، سوال یہ ہے کہ ان کی دھوکا بازی کا کوئی جواب ہے ۔ جو یہ قیام پاکستان کے بعد سے مسلسل کر رہے ہیں ۔ انگریزی نظام تعلیم اپنا کر پاکستان میں نظام تعلیم کا ایسا بیڑہ غرق ہوا ہے کہ مقابلے کے امتحانات میں صرف چند سو ہی پاس ہو پاتے ہیں ۔
27ویں ترمیم کے ڈانڈے مشرق وسطی سے ملتے ہیں ، سابق بلیک امریکی وزیر خارجہ کنڈولیزا رائس کے خواب کی تعبیر ری برتھ آف مڈل ایسٹ مکمل ہونے جارہی ہے ۔ کیونکہ پاکستان بھی مشرق وسطی کا حصہ ہے اسی لیے پاکستان کو بھی اس کے قیام کے بعد برصغیر سے کاٹ کر مشرق وسطی کا حصہ بنا دیا گیا تھا ۔ اسی لیے مشرق وسطی کے پچھواڑے کی چوکیداری کئی دہائیوں پہلے پاکستان کے حصے میں آگئی تھی ۔اب ان ذمے داریوں میں مزید اضافہ ہونے والا ہے ۔
سعودی ولی عہد کا اٹھارہ نومبر سے دورہ امریکا جو سات سال کے بعد ہونے جا رہا ہے غیر معمولی طور پر اہمیت رکھتا ہے ۔ امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے اس سال دسمبر تک مزید عرب ممالک ابراہام اکارڈ کا حصہ ہوں گے ۔ تقسیم کے وقت ستاروں کی ایک ایسی پوزیشن اسٹرلوجی کے مطابق بن گئی تھی جس کے نتیجے میں برصغیر تقسیم ہو گیا ۔ اب ستاروں کی ایسی پوزیشن بن گئی ہے جو اسے دوبارہ سے ری یونائیٹ کردے گی۔ سرحدیں سوفٹ ہو جائیں گی۔ تجارت ومعیشت کا آزادانہ سلسلہ شروع ہو گا ۔ مشرق وسطی کی ری برتھ امریکی مفادات کے لیے بھی ضروری ہے ۔ اس کے بغیر اس خواب کی تعبیر مکمل نہیں ہو سکتی۔
2026اور2027 اس حوالے سے فیصلہ کن اہمیت رکھتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نظام تعلیم تعلیم ان یہ ہے کہ میں ہی کے لیے
پڑھیں:
جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
سٹی 42: علیمہ خانم نے فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے
علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔
جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔
بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔
افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،
ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز