کھجور سے لذیذ مٹھائیاں
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بلوچستان کی خواتین آج زندگی کے ہر شعبے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں اور کاروبار ان میں سے ایک نمایاں میدان بنتا جا رہا ہے۔اس تبدیلی کی قیادت وہ باہمت خواتین کر رہی ہیں جو گھر کی چہار دیواری سے نکل کر معیشت کے میدان میں بھی اپنا مقام بنا رہی ہیں۔ ایسی ہی ایک روشن مثال پنجگور کی شبانہ حنیف ہیں جنہوں نے نہ صرف کھجور کے روایتی کاروبار کو ایک نیا رنگ دیا بلکہ اپنی کامیابی سے ہزاروں خواتین کے لیے اُمید کی کرن بھی بن گئیں۔حال ہی میں کراچی ایکسپو میں لگایا گیا شبانہ کا خوبصورت سٹال محض ایک تجارتی گوشہ نہیں تھا بلکہ بلوچستان کی ثقافت کا دلکش عکس تھا۔ پنجگور کی اعلیٰ معیار کی کھجوریں، ان سے تیار کردہ مٹھائیاں، کیک، بسکٹ اور دیگر لذیذ اشیا ہر آنے والے کو اپنی طرف متوجہ کر رہی تھیں۔ روایتی لباس میں ملبوس شبانہ پورے اعتماد اور خوش مزاجی سے آنے والوں کو اپنی مصنوعات کے بارے میں بتا رہی تھیں۔شبانہ حنیف نےبتایا کہ ’پہلے کے دور میں اور اب کے جدید دور میں بہت فرق آ گیا ہے۔ اب بلوچستان کی خواتین بھی مردوں کے شانہ بہ شانہ آ رہی ہیں۔ پہلے مرد درختوں سے کھجور اتار کر ڈبے میں بند کر کے بیچتے تھے۔ کاروبار اس وقت بھی چلتا تھا لیکن جب سے خواتین اس کھجور کے کاروبار میں سامنے آئی ہیں تو کاروبار خوب سے خوب تر چلنے لگا۔‘
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رہی ہیں
پڑھیں:
مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار
سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں انٹیلیجنس بیسڈ مؤثر کارروائیاں جاری ہیں، مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے۔
سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران متعدد دہشتگرد گرفتار کیے گئے، گرفتار دہشتگردوں میں سہولتکار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں، کارروائی میں دہشتگردوں کےمتعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔
علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مکمل نگرانی برقرار ہے، دہشتگردوں کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود برآمد کرلیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز تیز کر دیے گئے، دہشت گردی کے خاتمے اور علاقے میں امن و امان کے قیام تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔