Daily Mumtaz:
2026-07-24@02:35:06 GMT

آئی سی سی کا ویمنز ورلڈکپ 2029 کے حوالے سے اہم فیصلہ

اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT

آئی سی سی کا ویمنز ورلڈکپ 2029 کے حوالے سے اہم فیصلہ

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ویمنز ورلڈکپ 2029 کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ کیا ہے جس کے تحت اس ایڈیشن میں ٹیموں کی تعداد بڑھا کر 10 کر دی جائے گی۔
آئی سی سی خواتین کرکٹ کے حالیہ عالمی ورلڈکپ کی کامیابی کو مزید فروغ دینے کا خواہشمند ہے۔ اسی سلسلے میں، 2029 میں ہونے والے ویمنز کرکٹ ورلڈکپ میں 10 ٹیمیں حصہ لیں گی اور ٹورنامنٹ میں 48 میچز کھیلے جائیں گے۔ یہ فیصلہ آئی سی سی نے 2021 میں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خواتین کرکٹ میں توسیع کے اپنے وعدے کو عملی جامہ پہنانا شروع کیا ہے۔
واضح رہے کہ 2000 سے 2025 تک کھیلے گئے تمام ویمنز ون ڈے ورلڈکپ میں 8 ٹیمیں شریک ہوتی رہی ہیں، لیکن 2029 کے ایڈیشن میں تعداد بڑھا کر 10 کر دی جائے گی۔
آئی سی سی نے مزید کہا کہ اگلے سال ہونے والے ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھی 12 ٹیمیں حصہ لیں گی، جبکہ گزشتہ ایڈیشن میں 10 ٹیمیں شامل ہوئی تھیں۔ اس فیصلے کے ذریعے آئی سی سی خواتین کرکٹ کو مزید عالمی سطح پر مقبول بنانے اور اس کی ترقی کے لیے کام کر رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار