اجتماع عام میں “جہاں آباد تم سے ہے” عظیم الشان خواتین کانفرنس ہوگی، حمیرا طارق
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
(فائل فوٹو)
لاہور:۔ سیکریٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے منصورہ میں پریس کانفر نس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اجتماع عام کے دوران خواتین کانفرنس میں ”جہاں آباد تم سے ہے” کے عنوان سے پروگرام میں خواتین کے مسائل اور ان کے حل کے لیے جامع لائحہ عمل دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کانفر نس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز خواتین، غیر ملکی مندوبین اور ہائی اچیورز شرکت کریں گی جنہیں کارکردگی ایوارڈز سے نوازا جائے گا اور نوجوان خواتین کے لیے ”یوتھ ارینا” قائم کیا جائے گا، جہاں 500سے زائد مستند گائڈز ڈیجیٹل دنیا اور جدید کاروباری مواقع سے متعلق رہنمائی فراہم کریں گی۔
حمیرا طارق کا کہنا تھا کہ “میرا برانڈ پاکستان” کے ذریعے مقامی مصنوعات کے فروغ کا خصوصی پلان پیش کیا جائے گا۔ دس ہزار بچوں کے لیے اطفال کیمپ تیار کیا جارہا ہے، جس میں تعلیمی، معلوماتی اور تفریحی سرگرمیاں شامل ہوں گی اور اجتماع عام میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی بچیوں میں 5ہزار لیپ ٹاپ تقسیم کئے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ “بدل دو نظام” خواتین کے حقوق کے تحفظ اور نوجوانوں میں امید کی شمع روشن کرنے کا لائحہ عمل دے گا۔
پریس کانفر نس میں اجتماع عام کے حوالے سے قائم کمیٹیوں کی سربراہ اور میڈیا ڈائریکٹر ڈاکٹر ثمینہ سعید، ڈاکٹر زبیدہ جبیں سمیت تمام انتظامی کمیٹیوں کی ناظمات اور اسلامی جمعیت طالبات، پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کی قیادت نے شرکت کی۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ اجتماع عام بدل دو نظام خواتین کے حقوق کے تحفظ اور نوجوانوں میں امید کی شمع روشن کرنے کا لائحہ عمل دے گا۔ دنیا بھر میں تبدیلی کے حیرت انگیز واقعات رونما ہورہے ہیں۔ بدلتے حالات میں پاکستان دوست قوتیں نئے عزم سے ملک و ملت کی ترقی کاعہدکریں۔ اجتماع عام اسی عظیم مقصد کے پیش نظر منعقد کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو مایوسی سے نکالنا ہمارا اصل ہدف ہے۔ جماعت اسلامی ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑی ہوئی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔ ہمار اایمان ہے کہ عوام کی خدمت بہترین عبادت ہے۔ 22نومبر کو اجتماع عام کے دوسرے دن سہ پہر تین بجے خواتین سیشن ہوگا، جس میں نظام کی تبدیلی میں خواتین کے کردار پر مختلف شعبہ ہائے زندگی کی ماہر خواتین روشنی ڈالیں گی۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا ہے کہ ملکی تاریخ کا خواتین کا سب سے بڑا اور منفرد پروگرام لاہور میں منعقد ہوگا، جس میں ملک بھر سے تین دن کے لیے لاکھوں خواتین بچوں سمیت شریک ہوں گی۔ جماعت اسلامی کے غیر معمولی اور شاندر پروگرام کے لیے تیاریاں عروج پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملک بھر کی خواتین کو اجتماع عام میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خواتین کے نے کہا کہ جائے گا کے لیے
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔