حوثی مجاہدین نے امریکی اسرائیلی سعودی جاسوسی نیٹ ورک پکڑ لیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
یمن کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری شدہ بیانیے میں کہا گیا ہے کہ سی آئی اے، موساد اور سعودی انٹیلی جنس ایجنسی سے مربوطہ ایک ایسا جاسوسی نیٹ ورک پکڑ لیا گیا ہے جو انصاراللہ کے فوجی اور خفیہ ٹھکانوں کی اطلاع اسرائیلی دشمن کو فراہم کرتا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ یمن کی وزارت داخلہ نے آج بروز ہفتہ 8 نومبر ایک اہم بیانیہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے: "خداوند متعال کے فضل اور مدد سے "و مکْرُ أُولَئِکَ هُوَ یَبُورُ" نامی کامیاب انٹیلی جنس آپریشن انجام دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں ایک ایسے جاسوسی نیٹ ورک میں شامل جاسوس گرفتار کر لیے گئے ہیں جو امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے، اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد اور سعودی انٹیلی جنس ایجنسی سے رابطے میں تھے۔" اس بیانیے میں مزید کہا گیا ہے کہ اس جاسوسی نیٹ ورک کا ہیڈکوارٹر سعودی عرب میں واقع تھا۔ یہ اہم سیکورٹی اور انٹیلی جنس کامیابی کچھ عرصے کی تحقیق، نظارت اور نگرانی کے بعد حاصل ہوئی ہے اور اس نے دشمن کی سازشوں اور غدار عناصر کے طریقہ کار کو برملا کر دیا ہے۔ یمن کی وزارت داخلہ نے اپنے بیانیے میں کہا: "یہ جاسوسی نیٹ ورک معلومات اکٹھی کرنے میں مصروف تھا اور سیاسی رہنماوں سمیت یمن آرمی کے کمانڈرز اور سیکورٹی افسران، ان کے ہیڈکوارٹرز اور ان کی سرگرمیوں کی جاسوسی بھی کر رہا تھا۔" اس بیانیے میں کہا گیا ہے کہ تینوں ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ایک مشترکہ کنٹروم روم تشکیل دے کر وسیع پیمانے پر جاسوس بھرتی کر رکھے تھے اور ان کا مقصد انصاراللہ یمن کو غزہ کی حمایت میں فوجی کاروائیاں انجام دینے سے روکنا تھا۔
یمن کی وزارت داخلہ کے بیانیے میں آیا ہے: "مشترکہ کنٹرول روم یمن کے خلاف تخریب کاری اور جاسوسی سرگرمیوں میں ہم آہنگی کی ذمہ داری انجام دے رہا تھا اور اس نے اپنی سرگرمیوں کا مرکز سعودی عرب کو بنا رکھا تھا جبکہ چھوٹے پیمانے پر تشکیل پانے والے نیٹ ورکس اپنے طور پر خودمختار ہو کر عمل کر رہے تھے اور ان سب کا رابطہ مشترکہ کنٹرول روم سے برقرار تھا۔" یمن کی وزارت داخلہ نے اپنے بیانیے میں کہا کہ دشمن کا مشترکہ کنٹرول روم اس جاسوسی نیٹ ورک کو ضروری سازوسامان اور جدید جاسوسی آلات فراہم کرتا تھا تاکہ ان کی مدد سے جس جگہ کی بھی چاہیں جاسوسی کر سکیں۔ اس بیانیے میں مزید آیا ہے: "یہ جاسوسی نیٹ ورک یمن کے انفرااسٹرکچر پر نظر رکھے ہوئے تھا اور ایسے تمام فوجی اور سیکورٹی مراکز، فوجی سازوسامان تیار کرنے والے مراکز اور بیلسٹک میزائل اور ڈرون فائر کرنے والے علاقوں کی جاسوسی میں مصروف تھا جو یمن کی مسلح افواج غاصب صیہونی رژیم کے خلاف فوجی کاروائیوں میں استعمال کرتی تھیں۔ اسی طرح اعلی سطحی سیاسی اور فوجی سربراہان اور ان کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھے ہوئے تھا۔"
یمن کی وزارت داخلہ کے بیانیے کے آخر میں زور دے کر کہا گیا ہے: "وزارت داخلہ یمن کے عظیم عوام کو اس شاندار کامیابی کی مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ اپنی قوم کے ان بیدار فرزندوں کا شکریہ بھی ادا کرتی ہے جنہوں نے اس کامیابی کو ممکن بنایا ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ ان کے تعاون اور ہوشیاری نے ہمیشہ سے دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی طرح ہر یمنی کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ہر وقت سے زیادہ دشمن کی سرگرمیوں پر نظر رکھے کیونکہ دشمنوں نے یمن کے اندرونی محاذ کو نشانہ بنا رکھا ہے اور اس ملک کی سلامتی اور استحکام کو دھچکہ پہنچانے کے درپے ہے۔ وہ ایسے عوام کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے جو غزہ اور فلسطین کی حمایت میں فوجی جدوجہد انجام دے رہے ہیں۔" یاد رہے اس انٹیلی جنس آپریشن کا نام سورہ مبارکہ فاطر کی آیت 10 سے لیا گیا ہے جس میں خداوند متعال فرماتا ہے: "مَن کَانَ یُرِیدُ ٱلۡعِزَّةَ فَلِلَّهِ ٱلۡعِزَّةُ جَمِیعًاۚ إِلَیۡهِ یَصۡعَدُ ٱلۡکَلِمُ ٱلطَّیِّبُ وَٱلۡعَمَلُ ٱلصَّـٰلِحُ یَرۡفَعُهُۥۚ وَٱلَّذِینَ یَمۡکُرُونَ ٱلسَّیِّـَٔاتِ لَهُمۡ عَذَاب شَدِید وَمَکۡرُ أُوْلَـٰٓئِکَ هُوَ یَبُورُ" یعنی "جو بھی عزت چاہتا ہے (جان لے کہ) عزت ساری کی ساری صرف خدا کے پاس ہے اور پسندیدہ کردار اسے مزید بڑھاتا ہے، اور وہ جو شیطانی سازشیں کرتے ہیں ان کے لیے شدید عذاب ہے اور یقیناً ان کا مکر و فریب نابود ہو کر رہ جائے گا۔"
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یمن کی وزارت داخلہ انٹیلی جنس ایجنسی بیانیے میں کہا جاسوسی نیٹ ورک کہا گیا ہے ہے اور اور ان یمن کے اور اس
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔