یمن کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری شدہ بیانیے میں کہا گیا ہے کہ سی آئی اے، موساد اور سعودی انٹیلی جنس ایجنسی سے مربوطہ ایک ایسا جاسوسی نیٹ ورک پکڑ لیا گیا ہے جو انصاراللہ کے فوجی اور خفیہ ٹھکانوں کی اطلاع اسرائیلی دشمن کو فراہم کرتا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ یمن کی وزارت داخلہ نے آج بروز ہفتہ 8 نومبر ایک اہم بیانیہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے: "خداوند متعال کے فضل اور مدد سے "و مکْرُ أُولَئِکَ هُوَ یَبُورُ" نامی کامیاب انٹیلی جنس آپریشن انجام دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں ایک ایسے جاسوسی نیٹ ورک میں شامل جاسوس گرفتار کر لیے گئے ہیں جو امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے، اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد اور سعودی انٹیلی جنس ایجنسی سے رابطے میں تھے۔" اس بیانیے میں مزید کہا گیا ہے کہ اس جاسوسی نیٹ ورک کا ہیڈکوارٹر سعودی عرب میں واقع تھا۔ یہ اہم سیکورٹی اور انٹیلی جنس کامیابی کچھ عرصے کی تحقیق، نظارت اور نگرانی کے بعد حاصل ہوئی ہے اور اس نے دشمن کی سازشوں اور غدار عناصر کے طریقہ کار کو برملا کر دیا ہے۔ یمن کی وزارت داخلہ نے اپنے بیانیے میں کہا: "یہ جاسوسی نیٹ ورک معلومات اکٹھی کرنے میں مصروف تھا اور سیاسی رہنماوں سمیت یمن آرمی کے کمانڈرز اور سیکورٹی افسران، ان کے ہیڈکوارٹرز اور ان کی سرگرمیوں کی جاسوسی بھی کر رہا تھا۔" اس بیانیے میں کہا گیا ہے کہ تینوں ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ایک مشترکہ کنٹروم روم تشکیل دے کر وسیع پیمانے پر جاسوس بھرتی کر رکھے تھے اور ان کا مقصد انصاراللہ یمن کو غزہ کی حمایت میں فوجی کاروائیاں انجام دینے سے روکنا تھا۔
 
یمن کی وزارت داخلہ کے بیانیے میں آیا ہے: "مشترکہ کنٹرول روم یمن کے خلاف تخریب کاری اور جاسوسی سرگرمیوں میں ہم آہنگی کی ذمہ داری انجام دے رہا تھا اور اس نے اپنی سرگرمیوں کا مرکز سعودی عرب کو بنا رکھا تھا جبکہ چھوٹے پیمانے پر تشکیل پانے والے نیٹ ورکس اپنے طور پر خودمختار ہو کر عمل کر رہے تھے اور ان سب کا رابطہ مشترکہ کنٹرول روم سے برقرار تھا۔" یمن کی وزارت داخلہ نے اپنے بیانیے میں کہا کہ دشمن کا مشترکہ کنٹرول روم اس جاسوسی نیٹ ورک کو ضروری سازوسامان اور جدید جاسوسی آلات فراہم کرتا تھا تاکہ ان کی مدد سے جس جگہ کی بھی چاہیں جاسوسی کر سکیں۔ اس بیانیے میں مزید آیا ہے: "یہ جاسوسی نیٹ ورک یمن کے انفرااسٹرکچر پر نظر رکھے ہوئے تھا اور ایسے تمام فوجی اور سیکورٹی مراکز، فوجی سازوسامان تیار کرنے والے مراکز اور بیلسٹک میزائل اور ڈرون فائر کرنے والے علاقوں کی جاسوسی میں مصروف تھا جو یمن کی مسلح افواج غاصب صیہونی رژیم کے خلاف فوجی کاروائیوں میں استعمال کرتی تھیں۔ اسی طرح اعلی سطحی سیاسی اور فوجی سربراہان اور ان کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھے ہوئے تھا۔"
 
یمن کی وزارت داخلہ کے بیانیے کے آخر میں زور دے کر کہا گیا ہے: "وزارت داخلہ یمن کے عظیم عوام کو اس شاندار کامیابی کی مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ اپنی قوم کے ان بیدار فرزندوں کا شکریہ بھی ادا کرتی ہے جنہوں نے اس کامیابی کو ممکن بنایا ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ ان کے تعاون اور ہوشیاری نے ہمیشہ سے دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی طرح ہر یمنی کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ہر وقت سے زیادہ دشمن کی سرگرمیوں پر نظر رکھے کیونکہ دشمنوں نے یمن کے اندرونی محاذ کو نشانہ بنا رکھا ہے اور اس ملک کی سلامتی اور استحکام کو دھچکہ پہنچانے کے درپے ہے۔ وہ ایسے عوام کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے جو غزہ اور فلسطین کی حمایت میں فوجی جدوجہد انجام دے رہے ہیں۔" یاد رہے اس انٹیلی جنس آپریشن کا نام سورہ مبارکہ فاطر کی آیت 10 سے لیا گیا ہے جس میں خداوند متعال فرماتا ہے: "مَن کَانَ یُرِیدُ ٱلۡعِزَّةَ فَلِلَّهِ ٱلۡعِزَّةُ جَمِیعًاۚ إِلَیۡهِ یَصۡعَدُ ٱلۡکَلِمُ ٱلطَّیِّبُ وَٱلۡعَمَلُ ٱلصَّـٰلِحُ یَرۡفَعُهُۥۚ وَٱلَّذِینَ یَمۡکُرُونَ ٱلسَّیِّـَٔاتِ لَهُمۡ عَذَاب شَدِید وَمَکۡرُ أُوْلَـٰٓئِکَ هُوَ یَبُورُ" یعنی "جو بھی عزت چاہتا ہے (جان لے کہ) عزت ساری کی ساری صرف خدا کے پاس ہے اور پسندیدہ کردار اسے مزید بڑھاتا ہے، اور وہ جو شیطانی سازشیں کرتے ہیں ان کے لیے شدید عذاب ہے اور یقیناً ان کا مکر و فریب نابود ہو کر رہ جائے گا۔"

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: یمن کی وزارت داخلہ انٹیلی جنس ایجنسی بیانیے میں کہا جاسوسی نیٹ ورک کہا گیا ہے ہے اور اور ان یمن کے اور اس

پڑھیں:

نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے

امریکہ نے بین الاقوامی طلبہ کے لیے ویزا قوانین میں اہم تبدیلیوں کی تجویز پیش کی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستانی طلبہ سمیت دنیا بھر سے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانا، امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا اور ویزا کے ممکنہ غلط استعمال کی روک تھام کرنا ہے۔

نئی ویزا پالیسی میں کیا تبدیلیاں ہوں گی؟

نئی تجویز کے مطابق بین الاقوامی طلبہ کو پہلے کی طرح اپنے پورے تعلیمی پروگرام کی مدت کے بجائے محدود مدت کے لیے امریکہ میں قیام کی اجازت دی جائے گی۔ زیادہ تر طلبہ کے لیے یہ مدت چار سال ہوگی، جبکہ اگر کسی طالب علم کا تعلیمی یا تحقیقی پروگرام اس سے زیادہ عرصہ لیتا ہے تو اسے امریکہ میں مزید قیام کے لیے الگ سے توسیع کی درخواست دینا ہوگی۔ اس کے علاوہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد امریکہ چھوڑنے کے لیے دی جانے والی رعایتی مدت کو بھی کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے باعث طلبہ کو اپنی آئندہ منصوبہ بندی پہلے سے زیادہ احتیاط کے ساتھ کرنا ہوگی۔

پاکستانی طلبہ پر ممکنہ اثرات

ہر سال بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ کا رخ کرتے ہیں، خصوصاً ماسٹرز، پی ایچ ڈی اور تحقیقی پروگراموں میں داخلہ لینے والے طلبہ۔ نئی پالیسی نافذ ہونے کی صورت میں ایسے طلبہ کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے دوران اضافی ویزا کارروائی، مزید دستاویزات اور ممکنہ سیکیورٹی جانچ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث بعض طلبہ امریکہ کے بجائے دیگر ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔

امریکی حکومت کا مؤقف

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد قومی سلامتی کو مضبوط بنانا، ویزا نظام میں شفافیت پیدا کرنا اور ایسے افراد کی مؤثر نگرانی کرنا ہے جو طویل عرصے تک امریکہ میں قیام کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق نئی پالیسی ویزا اوور اسٹے اور دیگر بے ضابطگیوں کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوگی۔

تعلیمی اداروں کے تحفظات دوسری جانب کئی امریکی جامعات اور تعلیمی ماہرین نے مجوزہ تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر طلبہ کو بار بار ویزا کی تجدید یا مدت میں توسیع کے مراحل سے گزرنا پڑا تو اس سے نہ صرف غیر ملکی طلبہ کے لیے مشکلات بڑھیں گی بلکہ امریکی جامعات کی عالمی سطح پر کشش بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر طویل المدتی تحقیقی پروگراموں میں داخل طلبہ کے لیے یہ قوانین اضافی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں امریکی ویزا سروس عارضی طور پر معطل

لاہور کے 22 سالہ عاصم علی، جو ایک طویل عرصے سے امریکہ سے ماسٹرز کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں، اس مجوزہ پالیسی کو اپنے مستقبل کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھتے ہیں۔ عاصم کا کہنا ہے کہ ہم جیسے متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ ہی ایک بہت بڑا مالیاتی جوا ہوتا ہے، جہاں بینک اسٹیٹمنٹ کا بندوبست کرنے سے لے کر مہنگی فیسوں کی ادائیگی تک، سب کچھ داؤ پر لگا ہوتا ہے۔

ان کے مطابق، زمینی حقیقت یہ ہے کہ اگر چار سال بعد دوبارہ ویزا کی تجدید کا قانون لاگو ہوتا ہے، تو طلبہ پر ہر وقت ویزا ریجیکٹ ہونے اور لاکھوں روپے ڈوبنے کا خوف مسلط رہے گا۔ عاصم کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ جا کر بھی مستقبل غیر یقینی کا شکار رہنا ہے، تو پاکستانی طلبہ کے لیے کینیڈا یا جرمنی جیسے ممالک اب زیادہ بہتر اور محفوظ آپشن بن چکے ہیں۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر سمیرا ناز، جو بائیوٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کے لیے امریکی یونیورسٹی میں داخلے کی خواہشمند ہیں، اس پالیسی کو خاص طور پر تحقیقی طلبہ کے لیے ناانصافی قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سائنس کے شعبوں میں پی ایچ ڈی اور ریسرچ پروجیکٹس اکثر چار سال سے زیادہ کا عرصہ لے لیتے ہیں اور لیب کے کام کی نوعیت ایسی ہوتی ہے جس کی مدت کا پہلے سے سو فیصد تعین ممکن نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی ویزا منسوخی میں 150 فیصد اضافہ، ٹرمپ انتظامیہ کا ریکارڈ دعویٰ

سمیرا کہتی ہیں کہ پاکستانی طلبہ کو پہلے ہی انتظامی کارروائی اور سخت سیکیورٹی اسکریننگ کی وجہ سے مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اب اگر تعلیم کے دوران بار بار اسی ذہنی اذیت اور کاغذی کارروائی سے گزرنا پڑا، تو کسی بھی طالب علم کے لیے یکسوئی سے ریسرچ کرنا ناممکن ہو جائے گا، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکہ اب غیر ملکی ٹیلنٹ کا خیرمقدم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

امریکی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم پرویز خان کا کہنا ہے کہ امریکی ویزا پالیسی میں حالیہ تبدیلیاں ان جیسے محققین کے لیے شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی کا باعث بنتی ہیں۔ پی ایچ ڈی چونکہ ایک طویل المدتی تحقیقی سفر ہے، اس لیے محدود مدت کے ویزا کی پالیسی اور بار بار ویزا تجدید کے مراحل ان کی تعلیمی اور تحقیقی ٹائم لائنز کو بری طرح متاثر کریں گے۔ اب امریکی جامعات بھی طلبہ کی تحقیقی صلاحیت کے بجائے ویزا اسٹیٹس اور سخت امیگریشن ڈیڈ لائنز کو ترجیح دینے پر مجبور ہو گئی ہیں، جس سے علمی کام میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔

تاہم، پرویز خان کا ماننا ہے کہ اس صورتحال کی ایک وجہ خود پاکستانی طلبہ کی جانب سے اکیڈمک اور امیگریشن قوانین سے لاپروائی بھی ہے۔ بہت سے طلبہ امریکی تعلیمی نظام کی حساسیت کو سمجھے بغیر سرقہ بازی یا چیٹنگ جیسی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کا تعلیمی کیریئر ختم ہوتا ہے بلکہ امیگریشن ریکارڈ پر منفی اثر پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کی نئی ویزا پالیسی: کیا اب ذیابیطس اور موٹاپے کے شکار افراد کو امریکی ویزا نہیں ملے گا؟

اس کے علاوہ، ورک پرمٹ کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیمپس سے باہر غیر قانونی کام کرنا، یونیورسٹی کی جانب سے مطلوبہ فل ٹائم انرولمنٹ برقرار نہ رکھنا، یا محض قیام کو طول دینے کے لیے بلاوجہ اپنے تحقیقی موضوعات کو تبدیل کرنا ایسے عوامل ہیں جو امریکی حکام کے نزدیک شک کا باعث بنتے ہیں۔ پرویز کا کہنا ہے کہ پی ایچ ڈی کے طلبہ کو ان تکنیکی اور قانونی معاملات میں انتہائی محتاط رہنا ہوگا، کیونکہ قوانین سے معمولی سی لاپروائی بھی اب ان کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے لیے کافی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ نئی ویزا پالیسی نافذ ہو جاتی ہے تو امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کو پہلے سے زیادہ محتاط منصوبہ بندی، مکمل دستاویزات کی تیاری اور ویزا قوانین پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ اگرچہ اس پالیسی کا مقصد ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے، تاہم اس کے اثرات بین الاقوامی طلبہ، بالخصوص پاکستانی طلبہ، پر نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news امریکا پاکستان پاکستانی طلبا نئی پالیسی ویزا

متعلقہ مضامین

  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل