ترکی میں سائبر جاسوسی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی، دو مشتبہ افراد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انقرہ: ترک خفیہ ادارے اور جینڈرمری فورسز نے استنبول اور ادانا میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ایک سائبر جاسوسی نیٹ ورک سے منسلک دو مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا، یہ آپریشن انقرہ کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کی ہدایت پر کیا گیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تفتیش میں انکشاف ہوا کہ گرفتار افراد ایک بڑے بین الاقوامی سائبر کرائم نیٹ ورک سے منسلک ہیں، چھاپوں کے دوران حکام نے متعدد ڈیجیٹل آلات اور غیر ملکی نظام ضبط کیے جو مبینہ طور پر غیر قانونی سائبر سرگرمیوں میں استعمال ہورہے تھے۔
ابتدائی تفتیش میں ملزمان نے اعتراف کیا کہ وہ ذاتی ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی کے ذریعے حساس معلومات اکٹھی کرتے تھے اور انہیں مختلف پلیٹ فارمز پر فروخت کرنے میں ملوث تھے، ان بیانات کی بنیاد پر مزید مشتبہ افراد اور گروہوں کی نشاندہی کی جارہی ہے۔
ترکی کے سائبر سیکیورٹی قوانین کے تحت دونوں افراد کو باضابطہ طور پر گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ بیرونِ ملک موجود چند مشتبہ افراد کے خلاف بھی گرفتاری کے وارنٹ جاری کردیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق اس آپریشن کے دوران 24 ایسی ویب سائٹس تک رسائی بند کردی گئی جو چوری شدہ ذاتی معلومات کے ذریعے بنائے گئے کویری پینلز پر مشتمل تھیں، کیس کی تحقیقات مزید وسیع کی جارہی ہیں تاکہ مکمل نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جاسکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مشتبہ افراد نیٹ ورک
پڑھیں:
پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں شرینہ کو بیٹوں سمیت گرفتار کرلیا گیا۔پولیس کے مطابق شیریں شرینہ ملزمہ کو دونوں بیٹوں کے ساتھ کامران چورنگی سے گرفتار کیا گیا، ملزمہ ہیروئن، چرس اور دیگر منشیات فروخت کرتی تھی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ چند سال قبل گرفتار ہوکر جیل گئی تھی اور دو سال پہلے واپس آئی تھی، ملزمہ شیریں عرف شیرینہ کے خلاف 35 کے قریب مقدمات درج ہیں، ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سےدستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔پولیس حکام کا بتانا ہے کہ ملزمہ اپنے فلیٹ کی کھڑکی سے ڈائریکٹ ہیروئن سپلائی کرتی تھی، گرفتار ملزمہ اور ملزمان سے مذید تفتیش کی جارہی ہے۔