چینی گاڑیوں پر جاسوسی کا شبہ، اسرائیلی فوج نے افسران سے گاڑیاں واپس لے لیں
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
تل ابیب(نیوز ڈیسک) اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے اپنے افسران کے زیرِ استعمال چینی ساختہ گاڑیاں واپس لینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ جاسوسی کے خدشات اور حساس معلومات کے لیک ہونے کے خطرے کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ اقدام چیف آف اسٹاف کے براہِ راست حکم پر کیا جا رہا ہے۔ سکیورٹی اداروں کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ چینی گاڑیوں کے آن بورڈ سسٹمز کے ذریعے حساس ڈیٹا ممکنہ طور پر بیرونی سرورز کو منتقل ہوسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، پہلے مرحلے میں وہ افسران نشانہ ہیں جو حساس سکیورٹی عہدوں پر فائز ہیں یا جنہیں خفیہ معلومات تک براہِ راست رسائی حاصل ہے۔ 2026 کی پہلی سہ ماہی تک تمام افسران سے چینی گاڑیاں واپس لے لی جائیں گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض چینی گاڑیوں میں کیمرے، مائیکروفونز، سینسرز اور وائرلیس کنکشن ٹیکنالوجی موجود ہوتی ہے، جو صارف یا درآمد کنندہ کے علم کے بغیر ڈیٹا بیرونی نیٹ ورکس کو بھیج سکتی ہے۔
ایک سابق اسرائیلی فوجی افسر نے بتایا کہ خطرہ صرف گاڑیوں کے کیمروں یا مائیکروفونز تک محدود نہیں بلکہ ہر ’اسمارٹ‘ کار ایک متحرک کمپیوٹر کی طرح ہے جو حساس مقامات کے قریب ڈیٹا اکٹھا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اسرائیل میں اس سے قبل بھی فوجی تنصیبات اور چھاؤنیوں میں چینی گاڑیوں کے داخلے پر پابندی عائد تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چینی گاڑیوں
پڑھیں:
وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات،وزیر اعظم نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا
وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اس منصوبے سے ملک میں زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور تربیت کو ان منصوبوں کا حصہ بنایا جائے۔
جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے پر بات چیت کی جارہی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں
ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار