نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964 میں عجیب واقعہ پیش آیا‘ امریکی صدرلنڈن بی جونسن نے اسے وفد کا سربراہ بنا کر ماسکو بھجوایا‘ وہ کولڈ وار کا زمانہ تھا‘ نارمن ایٹمی تنصیبات کے خلاف تھا‘ اس کا خیال تھا یہ پہلے انسانیت اور پھر انسان کو کرہ ارض سے مٹا دیں گی۔
وہ بیک وقت انگریزی اور روسی زبانوں کا ماہر تھا لہٰذا صدر نے اسے انتہائی اہم وفد کا سربراہ بنا کر روس بھجوا دیا‘ یہ امریکا اور سوویت یونین کے درمیان جوہری توانائی پر پہلا رابطہ تھا اور اس کی تمام تر ذمے داری نارمن کزنز پر تھی‘ دورہ بہت کام یاب رہا لیکن آخری دن ایک ایسی گڑ بڑ ہو گئی جس نے تمام کام یابیاں مٹی میں ملا دیں اور امریکا اور روس کے تعلقات مزید خراب ہو گئے۔
نارمن کزنز آخری دن کانفرنس ہال کے لیے نکلا‘ اس کے ہوٹل اور کانفرنس ہال کے درمیان 20 کلومیٹر کا فاصلہ تھا‘ ڈرائیور وقت پر آ گیا‘ وہ وقت پر روانہ ہوا لیکن ڈرائیور اسے منزل کی مخالف سائیڈ پر بہت دور لے گیا وہاں پہنچ کر پتا چلا ہم غلط آ گئے ہیں‘ اس کے بعد کزنز کے ساتھ کیا ہوا‘ میں اس طرف آتا ہوں لیکن اس سے پہلے آپ کو نارمن کزنز کا تعارف کراتا چلوں‘ نارمن امریکن یہودی تھا‘ نیوجرسی میں پیدا ہوا‘ کولمبیا یونیورسٹی سے گریجوایشن کی اور نیویارک پوسٹ جوائن کر لی‘ وہ بعدازاں اخبار کا منیجنگ ایڈیٹر بن گیا۔
وہ ترقی کرتا ہوا 1942میں ایڈیٹر انچیف ہو گیا اور 1972 تک اس پوزیشن پر رہا‘ وہ اپنے زمانے کے مشہور ترین امریکی صحافیوں میں شمار ہوتا تھا‘ جوہری تنصیبات کے خلاف تھا لہٰذا صدر نے اسے اہم ترین وفد کا سربراہ بنا کر روس بھجوا دیا لیکن اس دن اس کے ساتھ افسوس ناک واقعہ پیش آیا‘ ڈرائیور اسے مخالف سمت میں بہت دور لے گیا‘ جب ان لوگوں کو اندازہ ہوا تو بہت تاخیر ہو چکی تھی‘ وہ ہال کی طرف واپس مڑے لیکن ٹریفک میں پھنس گئے‘ وہ حساس انسان تھا اسے شدید ٹینشن ہوئی‘ وہ جب منزل پر پہنچا تو تقریب معاہدے کے بغیر ختم ہو چکی تھی اور وفد اسے نفرت سے دیکھ رہا تھا۔
وہ اس کے بعد وفد کے ساتھ ائیرپورٹ پہنچا تو فلائیٹ فل تھی‘ دوسری طرف ان کے ویزے کی مدت ختم ہو چکی تھی بہرحال قصہ مختصر پورا وفد دو دن خوار ہو کر مختلف ملکوں سے ہوتا ہوا امریکا پہنچا‘ امریکی صدر بھی اس سے ناراض ہو گیا‘ وہ چند ہفتے شدید ٹینشن میں رہا‘ اس ٹینشن کے دوران اس کے پورے جسم میں دردیں شروع ہو گئیں‘ وہ ڈاکٹر کے پاس گیا‘ اس کا طبی معائنہ ہوا تو پتا چلا اسے (Ankylosing spondylitis) نام کی بیماری ہو چکی ہے‘ یہ آٹو امیون بیماری ہے جس میں انسان کا جسم اپنے آپ کو کھانا شروع کر دیتا ہے‘ ڈاکٹر نے کزنز کو بتایا تمہاری بیماری کا کوئی علاج نہیں‘ پانچ سو بیماروں میں سے صرف ایک مریض بیماری کے بعد دس سال زندہ رہ سکتا ہے‘ ہم تمہارا علاج نہیں کر سکتے‘ صرف ’’پین کلرز‘‘ کے ذریعے تمہارا درد کم کر سکتے ہیں۔
کزنز کے جسم میں اس وقت تک ناقابل برداشت درد تھا‘ وہ بستر پر کروٹیں بدلتااور آہ وزاری کرتا رہتا تھا‘ ڈاکٹر اسے روزانہ 38 دردکش گولیاں دیتے تھے لیکن درد اس کے باوجود کنٹرول نہیں ہوتا تھا‘ اسے ریسرچ کی عادت تھی لہٰذا اس نے اسپتال کے بستر پر لیٹے لیٹے اپنی بیماری پر ریسرچ شروع کر دی‘ اسے پتا چلا پین کلرز اینڈ ریلین گلینڈ سے وٹامن سی ختم کر دیتی ہیں جب کہ ریکوری اور قوت مدافعت کا انحصار وٹامن سی پر ہوتا ہے‘ اس نے ڈاکٹروں کی توجہ اس طرف مبذول کرائی لیکن ان کا جواب تھا ’’ڈاکٹرہم ہیں۔
آپ نہیں‘ یہ فیصلہ ہم نے کرنا ہے‘‘ کزنز بہت جلد اسپتال‘ ادویات اور ڈاکٹروں سے مایوس ہو گیا چناں چہ اس نے اپنا علاج جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا‘ وہ اسپتال سے نکلا اور ہوٹل میں مستقل کمرہ لے لیا‘ وہ کمرہ اسپتال سے سستا بھی تھا اور آرام دہ بھی‘ اس نے پین کلرز بھی بند کر دیں جس کے بعد وہ ساری ساری رات درد سے تڑپتا رہتا تھا لیکن اس کے بعد اس نے پین کلرز کو ہاتھ نہیں لگایا‘ اس کے کمرے میں ٹیلی ویژن تھا‘ وہ سارا دن ٹی وی دیکھتا رہتا تھا‘ ان دنوں چارلی چپلن کی فلمیں چل رہی تھیں‘ اس نے ایک دن محسوس کیا وہ جب چارلی چپلن کی فلم دیکھتا ہے تو اس کا درد کم ہو جاتا ہے‘ اس نے اس تبدیلی کو نوٹ کرنا شروع کر دیا‘ اس نے دیکھا فلم کے دوران وہ قہقہہ لگاتا ہے جس کے ساتھ ہی درد ختم ہو جاتا ہے۔
اس نے مزید نوٹ کیا دس منٹ کے قہقہوں کے بعد اسے دو گھنٹے تک درد نہیں ہوتا‘ اس نے اس تجربے کو بار بار دہرایا‘ ہر بار رزلٹ وہی نکلا‘ یہ ایک حیران کن دریافت تھی‘ اس نے تحقیق کی تو معلوم ہوا اسے ٹینشن کی وجہ سے بیماری ہوئی تھی اور قہقہہ اس کا علاج ہے‘ اسے یہ بھی معلوم ہوا دنیا میں جو بیماری گندگی سے ہوتی ہے اس کا علاج صفائی ہوتا ہے‘ جو خوراک سے ہوتی ہے وہ فاقے اور روزے سے ٹھیک ہو جاتی ہے‘ جو سستی سے ہوتی ہے اس کا علاج ایکٹویٹی اور حرکت ہوتا ہے چناں چہ دنیا کی تمام ٹینشنوں‘ ڈپریشنز اور اینگزائٹیز کا علاج مسکراہٹ‘ ہنسی اور قہقہہ ہے‘ آپ قہقہے لگاتے جائیں اور صحت مند ہوتے جائیں چناں چہ اس نے ہنسنا اور وٹامن سی لینا شروع کر دیا‘ وہ نہ صرف چند ہفتوں میں پاؤں پر کھڑا ہو گیا بلکہ اس کے جسم سے بیماری کے اثرات بھی ختم ہونے لگے۔
نارمن کزنز نے اس کے بعد اپنا طریقہ علاج دوسرے لوگوں پر آزمانا شروع کر دیا‘ نتائج یکساں نکلے‘ لوگوں کا درد اور تکلیف ختم ہو گئی‘ اس نے باقاعدہ اعدادوشمار کے ساتھ آرٹیکل لکھا اور یہ دنیا کے مشہور میڈیکل جرنل آف میڈیسن کو بھجوا دیا‘ ایڈیٹر اس کے پروفائل‘ میڈیکل ہسٹری اور اعدادوشمار سے متاثر ہوا اور اس نے آرٹیکل شایع کر دیا‘ یہ اس میڈیکل جرنل کی ہسٹری کا پہلا مضمون تھا جو کسی نان ڈاکٹر یا نان میڈیکل اسٹوڈنٹ نے لکھا تھا‘ آرٹیکل کے بعد نارمن کزنز ’’لافٹر تھراپی‘‘ کا بانی ہو گیا‘ یہ پہلا شخص تھا جس نے دنیا کو بتایا قہقہہ انسان کا درد ختم کر دیتا ہے‘ یہ دنیا کا بہترین پین کلر ہے‘ یہ پہلا شخص تھا جس نے بتایا ہنسی بھی علاج ہے۔
یہ انسان کی بے شمار بیماریاں ختم کر دیتی ہے‘ اسے انسانی زندگی میں خوراک اور ادویات جیسی اہمیت ملنی چاہیے‘ اس کا طریقہ علاج امریکا میں اتنا کام یاب اور مشہور ہو گیا کہ اسے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس نے پروفیسر کی نوکری کی آفر کر دی‘ اس نے یہ پیش کش قبول کر لی اور نیوجرسی سے لاس اینجلس شفٹ ہو گیا‘ وہ 1978سے 1990تک میڈیکل یونیورسٹی میں سائیکالوجی اینڈ بی ہیور سائنسز کے شعبے میں پروفیسر رہا‘ اس کا سبجیکٹ ’’انسانی رویوں کے صحت پر اثرات‘‘ تھا‘ وہ 1990میں فوت ہوا‘ اس وقت تک اس کے پہلے ہارٹ اٹیک کو 10 سال‘ آنتوں کے کینسر کو 26 سال اور دل کی بیماری کو 36 سال ہو چکے تھے لیکن اس کے باوجود وہ 75 سال زندہ رہا اور اس کی صحت عام لوگوں سے بہتر تھی۔
وہ پوری یونیورسٹی میں خوش ترین شخص تھا‘ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر صرف ایکسرسائز‘ اپنے کھیت کی قدرتی سبزیوں اورہنسی کی مدد سے اپنے دل کا علاج بھی کر لیا‘ اس نے اپنے تجربات پر مبنی ’’اناٹومی آف این ال نیس‘‘ کے نام سے کتاب بھی لکھی جس پر بعدازاں فلم بھی بنی‘ آپ نے اگر فلم ’’منا بھائی ایم بی بی ایس‘‘ دیکھی ہو تو آپ کو اس میں میڈیکل کالج کے پرنسپل کا کردار ملے گا‘ یہ کردار بومن ایرانی نے ادا کیا‘ یہ اس کی زندگی کی پہلی بڑی فلم تھی جس نے اسے مین ایکٹر کی حیثیت سے متعارف کرایا‘ یہ کردار ڈاکٹر نارمن کزنز سے متاثر ہو کر تخلیق کیا گیا تھا‘ کزنز کی عادت تھی وہ ٹینشن اور اینگزائٹی کے عالم میں مسکرانا بلکہ قہقہے لگانا شروع کر دیتا تھا اور اس کے نتیجے میں اینگزائٹی یا ٹینشن اس کے دماغ اور جسم کو متاثر نہیں کر پاتی تھی‘ لافٹر تھراپی اس کا کمال تھا‘ آپ نے اکثر بالی ووڈ اور ہالی ووڈ کی فلموں میں لوگوں کو پارکوں میں گروپ کی شکل میں ہنستے اور قہقہے لگاتے دیکھا ہو گا‘ یہ ڈاکٹر نارمن کی ریسرچ کا نتیجہ ہے‘ اس کی ریسرچ کے بعد باقاعدہ لطائف کی کتابیں شایع ہونی شروع ہوئیں اور نفسیات دان مریضوں کو ہنسنے کی تلقین کرنے لگے‘ یہ نسخہ بھی آزمودہ ہے اور اس کے نتائج بھی حیران کن ہیں۔
آپ اگر ایس پی عدیل اکبر کے خودکشی کیس کا دوبارہ مطالعہ کریں تو آپ کو اس میں بھی ہنسی کا عنصر کم ملے گا‘ غیرضروری سنجیدگی انسان کے اندر گھٹن پیدا کرتی ہے‘ آپ دنیا کے کسی بھی سنجیدہ آدمی سے ملیں آپ کو یہ ہمیشہ درد کی شکایت کرتا ملے گا‘ اس کے بدن کے کسی نہ کسی حصے میں ضرور درد ہوگا‘ اس میں ٹینشن‘ اینگزائٹی اور ڈپریشن بھی ہو گا جب کہ قہقہے لگانے اور ہنسنے والے لوگ جلد صحت مند بھی ہو جاتے ہیں اور انھیں عام حالات میں درد اور تکلیف بھی کم ہوتی ہے۔
اس طرح زندگی کے منفی پہلو دیکھنے اور ہمیشہ مایوس رہنے والے لوگ بھی جلد بیمار ہو جاتے ہیں‘ کیوں؟ کیوں کہ ان کی قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے چناں چہ میرا مشورہ ہے آپ کم از کم دن میں ایک گھنٹہ ضرور مسکرایا اور قہقہے لگایا کریں‘ مزاحیہ فلمیں دیکھا کریں‘ لطائف کی کتابیں پڑھا کریں اور ہنسنے اور قہقہے لگانے والے لوگوں کی صحبت میں بیٹھا کریں‘ آپ کی بیماری‘ بیماری اور تکلیف ‘تکلیف نہیں رہے گی اگر آپ کے گھر یا اسپتال میں بھی کوئی مریض ہے تو آپ اسے دس منٹ ہنسا کر دیکھ لیں‘ اسے دو گھنٹے درد نہیں ہوگا‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہنسی میں اتنی طاقت رکھی ہوئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اس کے بعد پین کلرز کے ساتھ چناں چہ کا علاج لیکن اس ہوتی ہے ختم ہو کر دیا اور اس ہو چکی ہو گیا
پڑھیں:
قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
سائنس دانوں نے پہلی بار قاتل وہیل (اورکا) کے ایک ایسے غیرمعمولی رویے کا مشاہدہ کیا ہے جس میں وہ مردہ سن فش کو زور دار ٹکر مار کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاکھوں سال پرانا وہیل مچھلیوں کا وسیع و عریض قبرستان دریافت، سائنسدان حیران
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق محققین بتاتے ہیں کہ یہ عمل یا تو خوراک کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے یا پھر ممکن ہے کہ اورکا محض تفریح کے لیے ایسا کرتی ہوں۔
امریکی غیر سرکاری تنظیم ’بینیتھ دی ویوز‘ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اورکا وہیل سن فش کی دم کو پکڑے ہوئے ہے جبکہ دوسری پوری طاقت کے ساتھ اس پر حملہ کرتی ہے جس کے نتیجے میں مچھلی کے ٹکڑے بکھر جاتے ہیں۔
محقق کیتھرین آئرس کے مطابق یہ سن فش پہلے ہی مردہ تھی اس لیے یہ شکار کرنے کا عمل نہیں تھا۔
Killer whales: orcas blow fish to bits, study finds.
Video from US-based NGO Beneath The Waves shows an orca holding the tail of a sunfish, while another whale charges with full force into the already dead fish, which explodes into pieces – possibly an attempt to turn the fish… pic.twitter.com/ZK4ZUnSzMH
— AFP News Agency (@AFP) July 23, 2026
انہوں نے بتایا کہ ممکن ہے اورکا وہیل مچھلی کو کھانے میں آسانی کے لیے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر رہی ہوں تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ وہ صرف کھیل رہی ہوں، کیونکہ اورکا وہیل اپنے شکار کے ساتھ کھیلنے کے لیے مشہور ہیں۔
کیتھرین آئرس نے کہا کہ اورکا اکثر اپنے شکار کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اپنے گروہ کے دیگر ارکان خصوصاً بچوں اور کم عمر وہیلوں کے ساتھ بھی بانٹتی ہیں۔
یہ غیرمعمولی مناظر سال 2024 اور سال 2025 کے دوران خلیج کیلیفورنیا میں دو مختلف مواقع پر ریکارڈ کیے گئے جن کی تفصیلات سائنسی جریدے فرنٹیئرز اِن ایتھولوجی میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ میں پیش کی گئی ہیں۔
مزید پڑھیے: جرمنی میں ساحل پر پھنسے ہمپ بیک وہیل کو بچانے کی دوڑ، ریسکیو آپریشن جاری
تنظیم اوشن کیئر کے ڈائریکٹر برائے سائنس مارک پیٹر سیمنڈز نے اس رویے کو انسانوں کی اجتماعی دعوتوں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے لوگ کھانے کے دوران سماجی روابط بھی قائم رکھتے ہیں اسی طرح اورکا وہیلوں میں بھی خوراک بانٹنے کا عمل سماجی تعلقات کا حصہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شاید یہ اسی طرح ہو جیسے کسی رسمی دعوت میں میزبان گوشت کاٹ کر دوسروں میں تقسیم کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اورکا وہیل دنیا کے ذہین ترین سمندری شکاریوں میں شمار ہوتی ہیں اور شکار کے لیے نہایت پیچیدہ حکمت عملیاں استعمال کرتی ہیں۔
اس سے قبل بھی انہیں برف کے بڑے ٹکڑوں پر موجود سیل مچھلیوں کو گرانے کے لیے اجتماعی طور پر لہریں پیدا کرتے دیکھا جا چکا ہے تاکہ انہیں آسانی سے شکار کیا جا سکے۔
تحقیقی رپورٹس میں یہ بھی سامنے آ چکا ہے کہ بعض اورکا وہیل مردہ سالمن مچھلیوں کو اپنے سروں پر رکھتی ہیں تاہم اس عجیب رویے کی وجہ اب تک معلوم نہیں ہو سکی۔
مزید پڑھیں: ممبئی ساحل پر پھنسا 26 فٹ لمبا وہیل کا بچہ ریسکیو کے باوجود دم توڑ گیا
گزشتہ سال شائع ہونے والی ایک اور تحقیق کے مطابق سیلش سی میں رہنے والی شدید خطرے سے دوچار اورکا وہیلوں کو سمندری گھاس کے ٹکڑے توڑ کر ایک دوسرے کی صفائی اور جسم رگڑنے کے لیے بطور آلے استعمال کرتے بھی دیکھا گیا تھا۔
ویسٹرن آسٹریلیا کی کرٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی سائنس دان ریبی کا ویلارڈ جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں نے کہا کہ یہ مشاہدہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ اورکا وہیل انتہائی ذہین مخلوق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امید ہے اس طرح کی تحقیقات لوگوں میں ان طاقتور سمندری شکاریوں کے لیے مزید احترام پیدا کریں گی۔
تحقیق کے مطابق سن فش دنیا کی سب سے بڑی ہڈی والی مچھلیوں میں شمار ہوتی ہے جس کا وزن 2 ہزار کلوگرام تک ہو سکتا ہے۔ اس کا چپٹا جسم اور منفرد ساخت اسے دیگر مچھلیوں سے ممتاز بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستانی سمندر میں وہیل اور ڈولفن کی 27 اقسام کی موجودگی خوش آئند ہے، وفاقی وزیر بحری امور
ماہرین نے واضح کیا کہ سن فش عام طور پر اس طرح ٹکڑوں میں نہیں بکھرتی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اورکا وہیل کی ٹکر غیرمعمولی طور پر طاقتور تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اورکا وہیل دلچسپ تحقیق سن فش قاتل وہیل کلر وہیل وہیل پر تحقیق وہیل کی سن فش کو ٹکر