فائل فوٹو

سندھ ہائیکورٹ نے کراچی میں ایئرپورٹ کے قریب غیرملکیوں پر خودکش حملے میں سہولت کاری کے کیس میں گرفتار ملزمہ گل نساء کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔

پراسیکیوشن کے مطابق ملزمہ پر جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب غیرملکیوں پر خودکش حملے میں سہولت کاری کا الزام ہے، ملزمہ خودکش حملہ آور شاہ فہد کے حب سے کراچی میں داخلے کے وقت گاڑی میں ساتھ بیٹھی تھی۔

ملزمہ کے وکیل شوکت حیات ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے خلاف کوئی شواہد نہیں ہیں، ملزمہ کے کسی کالعدم تنظیم سے تعلق کے بھی شواہد نہیں ہیں۔

کراچی ایئرپورٹ کے قریب حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی کراچی کیسے پہنچی؟

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ گاڑی حملے سے دو روز قبل کراچی پہنچی تھی، واردات میں خاتون سمیت 4 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

عدالت میں وکیل صفائی نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والی خاتون گل نساء نہیں ہے۔

پراسیکیوشن کا کہنا تھا کہ کیس میں سہولت کاری کے الزام میں ملزم جاوید بھی گرفتار ہے۔

واضح رہے کہ 6 اکتوبر کے خود کش حملے میں 2 چینی شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: حملے میں

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور