صدر مملکت سے گورنر پنجاب و دیگر سیاسی شخصیات کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251214-08-22
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) صدر مملکت آصف زرداری کا لاہور میں تیسرا روز بھی مصروف ترین گزرا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق بلاول ہاؤس میں آصف زرداری سے مختلف سیاسی شخصیات نے ملاقاتیں کیں، صدر مملکت سے ملاقات کرنے والوں میں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان ، پیپلزپارٹی کے رہنما عبدالقادر شاہین، مرتضیٰ محمود، علمدار قریشی ، ملک مظہر ، نواب شیر وسیر شامل تھے۔ دوسری جانب آصف زرداری نے مظفر گڑھ سے صوبائی سیٹ پر ضمنی الیکشن جیتنے پر علمدار قریشی کو مبارک باد دی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بلدیاتی الیکشن ہو رہے ہیں، پیپلزپارٹی کے کارکن تیاری کریں، جیالوں کو کہتا ہوں کہ عوامی رابطہ مہم تیر کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔