شاہراہ کی تعمیر میں رکاوٹ کا بہانہ، درختوں کی کٹائی شروع
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251214-4-11
محراب پور(جسارت نیوز)قومی شاہراہ کی تعمیرمیں رکائوٹ کا جواز بنا کر ہائی کورٹ منع نامہ اور کمشنر شہید بینظیر آبادکی لگائی 144 کے باوجودکنڈیارو اور کوٹری کبیر کے درمیان درختوں کی غیر قانونی کٹائی اور فروخت کا سلسلہ جاری،درخت مافیا نے کروڑوں روپے بنا لیئے، تفصیلی خبر موجب مورو اور کوٹری کبیر کے درمیان قومی شاہراہ کی تعمیرمیں درخت رکائوٹ ہونے کا جواز بناکرکرپشن مافیانے قومی شاہراہ کے اطراف اور دونوں روڈ کے درمیان لگے ہوئے درختوں کو غیر قانونی پر کاٹ کر فروخت کر دیا، پہلے مرحلہ میں کوٹری کبیر اور ہالانی کے درمیان میں درخت کاٹے گئے اب کنڈیارو اور ہالانی کے درمیان اور کنڈیارو اور بھریا سٹی کے درمیان درختوں کا کاٹنے کا سلسلہ جاری ہے، ذرائع کے مطابق درجنوں کی تعداد میں مزدور درخت کاٹ کرٹریکٹر ٹرالی اور مال بردار (گڈز) رکشہ میں درخت خفیہ مقام پر لیکر فروخت کر رہے ہیں سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے باوجود نیشنل ہائی وے اتھارٹی، کنڈیارو، ہالانی، بھریا سٹی پولیس، مقامی ٹاؤن کمیٹی درخت کی غیر قانونی کٹائی میں ملوث مافیا کیخلاف کارروائی سے گریزاں ہیں،ذرائع نے مزید بتایا کہ ہائی کورٹ کی جانب سے درختوں کی کٹائی کا منع نامہ ہے اور کمشنر شہید بینظیر آباد نے ڈویژن بھر میں درختوں کی کٹائی جیسے اقدامات کی وجہ سے دفعہ 144 لگائی ہوئی ہے تاہم درخت مافیا کی جانب سے درختوں کی کٹائی کا سلسلہ جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: درختوں کی کٹائی کے درمیان
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔