سردیوں میں ہونٹ پھٹنے کی وجہ کیا ہے اور اس کا علاج کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ ہونٹوں کا بار بار پھٹنا صرف موسم یا پانی کی کمی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے اکثر اہم وٹامنز اور منرلز کی کمی بھی کارفرما ہوتی ہے۔ سردیوں میں یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کر لیتا ہے جس سے شہریوں کو تکلیف، جلن اور زخموں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق وٹامن بی کمپلیکس خصوصاً بی ٹو (Riboflavin)، بی تھری، بی سکس اور بی بارہ کی کمی ہونٹوں کی خشکی، پھٹنے اور کناروں پر زخم بننے کا سبب بنتی ہے، جسے طبی اصطلاح میں اینگولر کیلائٹس کہا جاتا ہے۔ اسی طرح وٹامن سی کی کمی جلد کو کمزور کر دیتی ہے جس کے نتیجے میں ہونٹوں پر دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔
ماہرین نے بتایا کہ آئرن اور زنک کی کمی بھی ہونٹوں کے دیر سے ٹھیک ہونے اور بار بار پھٹنے کی ایک اہم وجہ ہے، خصوصاً خواتین اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔
اتراکھنڈ سے تعلق رکھنے والی ماہر امراضِ جلد ڈاکٹر آشا سکلانی کے مطابق وٹامن بی 12 کی کمی کی صورت میں ہونٹ زیادہ خشک ہو جاتے ہیں اور جلد میں دراڑیں پڑنے لگتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وٹامن بی 12 خون کے سرخ خلیات بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کی کمی خون کی کمی، بے حسی، جھنجھناہٹ اور یادداشت کی کمزوری کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ اس مسئلے سے بچاؤ کے لیے متوازن غذا کا استعمال نہایت ضروری ہے۔ دودھ، دہی، انڈے، دالیں، سبز پتوں والی سبزیاں، مالٹا، کینو اور لیموں وٹامنز کی کمی پوری کرنے میں مدد دیتے ہیں جبکہ گوشت، کلیجی، چنے اور خشک میوہ جات آئرن اور زنک کی فراہمی کا مؤثر ذریعہ ہیں۔
علاج کے حوالے سے ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ وٹامن بی کمپلیکس ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کیا جائے، دن میں کئی بار لپ بام یا پیٹرولیم جیلی لگائی جائے اور ہونٹوں کو بار بار زبان سے گیلا کرنے کی عادت ترک کی جائے۔ اس کے علاوہ زیادہ مقدار میں پانی پینا بھی بے حد ضروری ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہونٹوں کے کناروں پر شدید درد، جلن یا سفید تہہ نمودار ہو جائے تو یہ فنگل انفیکشن کی علامت ہو سکتی ہے، ایسی صورت میں خود علاج کے بجائے فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔