data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اگر آپ نے کبھی غور کیا ہو تو موسم سرما کے دوران دل کے امراض، خصوصاً ہارٹ اٹیک اور فالج کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ صرف سرد موسم کے اثرات ہیں یا روزمرہ کے معمولات میں تبدیلیاں بھی اس میں کردار ادا کرتی ہیں؟ یا شاید دونوں عوامل ایک ساتھ اس بڑھتی ہوئی شرح کے لیے ذمہ دار ہیں؟ اس سوال کا تفصیلی جواب امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی امراض قلب کی ماہر، پروفیسر ڈاکٹر پیٹریسیا واسیلو نے دیا ہے۔

ڈاکٹر پیٹریسیا کے مطابق سرد موسم میں انسانی جسم میں خون کی شریانیں سکڑ جاتی ہیں، جس کی وجہ سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے اور دل کو معمول سے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے تاکہ خون کو پورے جسم میں پہنچایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ دسمبر میں اکثر مقامات پر تعطیلات ہوتی ہیں اور روزمرہ کے معمولات متاثر ہوتے ہیں، جیسے کم نیند لینا، زیادہ میٹھا کھانا کھانا، یا ادویات کے استعمال میں کمی، جو سب مل کر دل پر اضافی دباؤ پیدا کرتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹس سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ امریکا میں 25 دسمبر کو دل کے امراض کے باعث اموات کی شرح سال بھر کے دیگر دنوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے بعد 26 دسمبر اور یکم جنوری اس لحاظ سے دوسرے اور تیسرے نمبر پر آتے ہیں۔

علاوہ ازیں، ڈاکٹر پیٹریسیا نے بتایا کہ پیر کی صبح ہارٹ اٹیک اور فالج کے کیسز کی شرح ہفتے کے باقی دنوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے کیونکہ نئے ہفتے کے آغاز پر کام کے دباؤ اور تناؤ کی سطح بڑھ جاتی ہے، یہ واضح مثال ہے کہ جسم اور جذبات پر تناؤ کے اثرات کس قدر نمایاں ہو سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں ڈاکٹر پیٹریسیا نے کچھ احتیاطی تدابیر بھی تجویز کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موسم کے مطابق گرم لباس پہنیں، گھر یا محفوظ ماحول میں زیادہ وقت گزاریں اور ہاتھوں کو باقاعدگی سے دھوئیں تاکہ نظام تنفس کے انفیکشنز کے خطرات کم ہوں جو دل پر اضافی دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

اگر کسی کو غیر معمولی علامات محسوس ہوں تو فوری طور پر طبی مدد حاصل کریں کیونکہ ہارٹ اٹیک کی ابتدائی علامات کی شناخت زندگی بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

ہارٹ اٹیک کی ممکنہ علامات میں قے یا متلی، سر چکرانا، سانس لینے میں دشواری، جبڑوں، کمر، گردن یا کندھوں میں درد، ہاتھ یا پیروں میں سن ہونا یا سوئیاں چبھنا، ٹھنڈے پسینے آنا، سینے میں جلن یا اچانک شدید تھکن اور کمزوری شامل ہیں۔

ڈاکٹر پیٹریسیا کا کہنا ہے کہ ان علامات کو پہچاننا اور بروقت ردعمل ظاہر کرنا نہ صرف خطرے کو کم کرتا ہے بلکہ زندگی بچانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہارٹ اٹیک

پڑھیں:

سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری

کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔

صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔

بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس

کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔

حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔

سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ

سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:

گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے

معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔

اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔

دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ