سرد موسم کا دل پر اثر: ہارٹ اٹیکس میں اضافے کی وجوہات اور ماہرین کی وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اگر آپ نے کبھی غور کیا ہو تو موسم سرما کے دوران دل کے امراض، خصوصاً ہارٹ اٹیک اور فالج کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ صرف سرد موسم کے اثرات ہیں یا روزمرہ کے معمولات میں تبدیلیاں بھی اس میں کردار ادا کرتی ہیں؟ یا شاید دونوں عوامل ایک ساتھ اس بڑھتی ہوئی شرح کے لیے ذمہ دار ہیں؟ اس سوال کا تفصیلی جواب امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی امراض قلب کی ماہر، پروفیسر ڈاکٹر پیٹریسیا واسیلو نے دیا ہے۔
ڈاکٹر پیٹریسیا کے مطابق سرد موسم میں انسانی جسم میں خون کی شریانیں سکڑ جاتی ہیں، جس کی وجہ سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے اور دل کو معمول سے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے تاکہ خون کو پورے جسم میں پہنچایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ دسمبر میں اکثر مقامات پر تعطیلات ہوتی ہیں اور روزمرہ کے معمولات متاثر ہوتے ہیں، جیسے کم نیند لینا، زیادہ میٹھا کھانا کھانا، یا ادویات کے استعمال میں کمی، جو سب مل کر دل پر اضافی دباؤ پیدا کرتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹس سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ امریکا میں 25 دسمبر کو دل کے امراض کے باعث اموات کی شرح سال بھر کے دیگر دنوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے بعد 26 دسمبر اور یکم جنوری اس لحاظ سے دوسرے اور تیسرے نمبر پر آتے ہیں۔
علاوہ ازیں، ڈاکٹر پیٹریسیا نے بتایا کہ پیر کی صبح ہارٹ اٹیک اور فالج کے کیسز کی شرح ہفتے کے باقی دنوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے کیونکہ نئے ہفتے کے آغاز پر کام کے دباؤ اور تناؤ کی سطح بڑھ جاتی ہے، یہ واضح مثال ہے کہ جسم اور جذبات پر تناؤ کے اثرات کس قدر نمایاں ہو سکتے ہیں۔
اس سلسلے میں ڈاکٹر پیٹریسیا نے کچھ احتیاطی تدابیر بھی تجویز کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موسم کے مطابق گرم لباس پہنیں، گھر یا محفوظ ماحول میں زیادہ وقت گزاریں اور ہاتھوں کو باقاعدگی سے دھوئیں تاکہ نظام تنفس کے انفیکشنز کے خطرات کم ہوں جو دل پر اضافی دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
اگر کسی کو غیر معمولی علامات محسوس ہوں تو فوری طور پر طبی مدد حاصل کریں کیونکہ ہارٹ اٹیک کی ابتدائی علامات کی شناخت زندگی بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
ہارٹ اٹیک کی ممکنہ علامات میں قے یا متلی، سر چکرانا، سانس لینے میں دشواری، جبڑوں، کمر، گردن یا کندھوں میں درد، ہاتھ یا پیروں میں سن ہونا یا سوئیاں چبھنا، ٹھنڈے پسینے آنا، سینے میں جلن یا اچانک شدید تھکن اور کمزوری شامل ہیں۔
ڈاکٹر پیٹریسیا کا کہنا ہے کہ ان علامات کو پہچاننا اور بروقت ردعمل ظاہر کرنا نہ صرف خطرے کو کم کرتا ہے بلکہ زندگی بچانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہارٹ اٹیک
پڑھیں:
سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
عالمی و مقامی مارکیٹوں میں منگل کو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
عالمی بلین مارکیٹ میں سونا 46 ڈالر کے اضافے سے 4540 ڈالر فی اونس کی سطح پر پہنچ گیا۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں اضافے کے باعث مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونا 4600 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 76 ہزار 362 روپے پر جاپہنچا۔
مزید پڑھیںسونے کی قیمت میں بڑی کمی، چاندی کے نرخ بڑھ گئے
سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی 3944 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 8 ہزار 403 روپے ہوگئی۔
دوسری جانب چاندی کی فی تولہ قیمت 94 روپے کے اضافے سے 8153 روپے ہوگئی۔