Express News:
2026-07-24@03:36:14 GMT

زندگی کو پُرسکون بنانے کیلیے اسٹریس کم کریں! جانیے کیسے؟

اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT

ذہنی سکون ہماری مجموعی صحت کا اہم حصہ ہے۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ مثبت ذہنی حالت ہمارے جذبات اور سوچ پر بھی مثبت طور پر اثر انداز ہوتی ہے۔

ذہنی دباؤ یا اسٹریس کی مسلسل موجودگی سے نیند، ہاضمہ، دل کی صحت اور روزمرہ کی توانائی متاثر ہوتی ہے۔ اسی لیے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ذہنی صحت کا خیال روزانہ کی بنیاد پر رکھا جانا ضروری ہے۔

روزمرہ کی زندگی میں اسٹریس کے اثرات

کام کا بوجھ، مالی مشکلات، گھریلو ذمہ داریاں یا پڑھائی کا دباؤ آج کل عام ہیں۔ اسٹریس جسم میں ہارمونز کی سطح کو متاثر کرتی ہے، جس سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے، دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے اور نیند میں کمی آتی ہے۔ طویل مدتی اسٹریس ڈپریشن اور دیگر ذہنی بیماریوں کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

اسٹریس کم کرنے کے آسان طریقے

ماہرین صحت مشورہ دیتے ہیں کہ روزانہ چند سادہ سی عادات سے اسٹریس کو کم کیا جا سکتا ہے:

مراقبہ اور سانس کی مشقیں: صرف 10 منٹ روزانہ گہری سانسیں لینے اور مراقبہ کرنے سے دماغ پرسکون ہوتا ہے۔

ورزش: ہلکی واک، یوگا یا ہوم ورک آؤٹ دماغ کو ریلیکس کرتے ہیں اور خوشی والے ہارمونز پیدا کرتے ہیں۔

صحیح نیند: ہر رات 7–8 گھنٹے کی نیند ذہنی توانائی کو بڑھاتی ہے اور تناؤ کم کرتی ہے۔

وقت کا نظام: کاموں کو ترجیحات کے مطابق تقسیم کرنے سے دباؤ کم اور ذہنی سکون میں اضافہ ہوتا ہے۔

مثبت سوچ اور طرزِ زندگی

ماہرین کا کہنا ہے کہ مثبت سوچ رکھنا، شکرگزاری اور چھوٹے خوشی کے لمحات کو یاد رکھنا ذہنی سکون کے لیے ضروری ہے۔ سماجی تعلقات اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا بھی ذہنی صحت پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا اور غیر ضروری مصروفیات سے وقفہ لینے سے بھی دماغی دباؤ کم ہوتا ہے۔

ذہنی صحت کو نظرانداز کرنا طویل مدتی نقصان دہ ہو سکتا ہے، لیکن روزانہ کی چند آسان عادات جیسے مراقبہ، ورزش، مناسب نیند اور مثبت سوچ سے اسٹریس کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ چھوٹی تبدیلیاں زندگی کو پرسکون اور توانائی سے بھرپور بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار