Nawaiwaqt:
2026-06-03@08:44:39 GMT

دہشتگردوں کی سہولت کاری سے گورنر راج آ سکتا ہے: بلاول

اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT

دہشتگردوں کی سہولت کاری سے گورنر راج آ سکتا ہے: بلاول

لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نامہ نگار) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملک میں ایک سیاسی جماعت ’سیاسی دجال‘ کا کام کر رہی ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں پارٹی کارکن زبیدہ جعفری کے انتقال پر تعزیت کے لئے ان کے گھر آمد کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے بلاول بھٹو نے کہا ہم نے پنجاب میں ایف پی سی سی آئی اے کے رہنماؤں سے ملاقات کی، حالیہ الیکشن میں مظفر گڑھ سے ہمارا ایم پی اے جیتا ہے، ڈی جی خان میں ہمارا جیتا ہوا الیکشن ہار میں تبدیل کیا گیا۔ اْنہوں نے کہا پاکستان کی بھارت کے خلاف جنگ میں فتح ہوئی، ہمارا دشمن ملک اب ہمارے خلاف سازش کر رہا ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا پاکستان میں دہشتگردی کی بھارت کوشش کر رہا ہے، پاکستان کو اس وقت افغانستان سے خطرات لاحق ہے، دہشگرد آتے ہیں اور فورسزز کے جوانوں کو شہید کرتے ہیں اور افغانستان میں چھپ جاتے ہیں۔ ہماری بہادر افواج بارڈر کے دو طرف سے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہی ہیں، پاکستان میں علیحدگی پسند تحریک کو ہمسایہ سے سہولت کاری مل رہی ہے، ہم اپنے ملک اور افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایسی سیاسی قوتیں ہیں جو دن رات افواج کی قیادت کے خلاف سازشیں بْنتی ہیں، وہ سوشل میڈیا پر اِس وقت سازش کرتیں جب ملک مشکل سے گزر رہا ہے، ایسی سیاسی جماعتیں سیاست سیاسی دائرہ کار میں رہ کر کریں۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا جمہوری روایت ہے اپوزیشن جماعت کو بھی سپیس ملنی چاہے جب کہ حکومت کے اتحادی اِس وقت سپیس مانگ رہے ہیں۔ پہلی بار الیکشن کمشن پر نہ اپوزیشن جماعتوں کا اعتماد اور نہ اتحادی جماعت کا اعتماد ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب سندھ آئیں الیکشن میں حصہ لیں مجھے خوشی ہوگی۔ ہم جو مرضی الزام لگائیں پیپلزپارٹی پر فارم کا ا لزام نہیں لگ سکتا۔ اْنہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں کسی سیاسی جماعت کو حق نہیں وہ فوجی تنصیبات پر حملے کریں، ایسی صورت میں تو پابندی لگتی ہے، جو پی ٹی آئی خود حالات پیدا کر رہی ہے اِس سے تو پابندی لگے گی۔ کوئی جا کر بانی پی ٹی کو سمجھائے کہ سیاست کریں۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کے پی کے کی حکومت اگر ہمیں مجبورکرے گی، اپنی فوج کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی بجائے واپس بھیجے گی تو پھر کیا ہوگا، پی ٹی آئی کے اپنے ایکشن اِس کو پابندی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کے پی میں گورنر راج لگانا میرا یا میری پارٹی کا مطالبہ نہیں، میں کسی سیاسی پارٹی پر پابندی کے حق میں بھی نہیں ہوں، سیاسی پارٹی نے کے پی میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن میں خلل ڈالا تو مسائل بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کے پی کی سیاسی جماعت دہشت گردوں کی سہولت کار بنی، فوجی انخلاء کی کوشش کرے گی تو گورنر راج مجبوری بن جائے گا، کے پی میں جنگی حالات پیدا ہوتے جا رہے ہیں۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوسے دربار حضرت سلطان باہو کے گدی نشین صاحبزادہ محمد نجیب سلطان نے گورنر ہاؤس میں ملاقات کی‘صاحبزادہ زین سلطان بھی ہمراہ تھے۔دونوں نے پیپلزپارٹی کی حمایت کا اعلان کیا ۔بلاول بھٹو زرداری سے پی ٹی آئی چھوڑ کر پی پی میں شامل ہونیوالے ضلع لیہ کے سجاد حسین خان تنگوانی نے حاجی محمد رمضان بھلر کے ہمراہ گورنر ہاؤس میں ملاقات کی۔ اٹک سے شمولیت کرنے والے بریگیڈئیر ریٹائرڈ عاصم نواز،سابق سٹی ناظم طاہر احمد اعوان اور سردار احمد نواز بھی ملے۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے انہیں خوش آمدید کہا۔بلاول بھٹو کی سربراہی میں پیپلز سٹوڈنٹ فیڈریشن اور پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کا اجلاس ہوا۔پارٹی چیئرمین نے نوجوانوں کی سیاسی صورتحال پر تجاویز کو دلچسپی سے سنا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں ملک عمران کھوکھر اور ملک عدنان کھوکھرنے گورنر ہاؤس لاہور میں ملاقات کی۔ ملک عدنان کھوکھر نے بلاول بھٹو زرداری کو بطور پارلیمانی لیڈر یورپ اور بین الاقوامی دنیا میں پاکستان کا مؤثر مقدمہ پیش کرنے پر مبارکباد پیش کی اور کہا مختلف انٹرنیشنل فورمز پر پاکستان کی شاندار نمائندگی کرکے کارکنان اور پوری قوم کے دل جیت لیے ہیں۔ سابقہ آئینی ترامیم اور موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں قوم بخوبی جان چکی ہے کہ ملک کے انتظامی, معاشی اور عدالتی ڈھانچے کی بہتری اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جتنی ضروری آئینی اصلاحات تھیں، وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں کی گئیں۔ پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کے پی میں گورنر راج کی بازگشت پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کسی میں جرات نہیں کہ خیبر پی کے میں گورنر راج لگائے۔ ہم اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں گورنر راج ان کے بس کی بات نہیں۔ انہوں نے پیپلزپارٹی سے گورنر راج پر پارٹی پالیسی کی وضاحت کا مطالبہ کرتے کہا بتایا جائے فیصل کنڈی کا بیان پارٹی پالیسی ہے یا نہیں۔ پی ٹی آئی امن چاہتی ہے۔ رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف تمام وسائل استعمال کیے جائیں، قانون میں جتنی گنجائش ہے ہم اتنی بات کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری چیئرمین پیپلز سیاسی جماعت پیپلز پارٹی ملاقات کی گورنر راج کے پی میں نے کہا کہ پارٹی نے انہوں نے کے خلاف

پڑھیں:

صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 

سٹی 42:صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  نے بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش  کی 

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ   نے  بلوچستان میں 17 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ملک دشمن عناصر کو سختی سے کچلا جائے گا۔سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔پوری قوم کو اپنے  جوانوں پر فخر کرتی ہے۔آخری دہشتگرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے  بلوچستان کے  مختلف اضلاع  میں بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کی ستائش  کی ۔ وزیرداخلہ محسن نقوی نے 17 بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا ۔ محسن نقوی نے کہا سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائیاں کرکے بلوچستان میں بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔  17 بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ پوری قوم کو سکیورٹی فورسز کے بہادر سپوتوں پر مان ہے ۔ دہشتگردی کے خلاف قوم سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

وزیراعظم محمد شہباز شریف  نے بلوچستان میں کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔ انہوں نے  بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بہادری کو سراہا۔ وزیراعظم نے بھارتی سرپرستی میں سرگرم 17  فتنتہ الھندوستان کے دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا  قوم اپنی بہادر افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی کامیابیاں پوری قوم کے عزم اور اتحاد کی عکاس ہیں، بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد عناصر کے ناپاک عزائم کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا۔پاکستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔پاکستان کے امن، استحکام اور ترقی کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے  بلوچستان میں فتنۂ الہندوستان کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔ صدرِ مملکت نے مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیوں میں 17 دہشت گردوں کی ہلاکت کو سراہا ۔ صدر مملکت نے کہا ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے ناسور کا جڑ سے خاتمہ کیا جانا اولین ترجیح ہے۔فتنۂ ہندوستان اور اس کے سہولت کاروں کے مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور