کسی میں جرات نہیں کہ "کے پی" میں گورنر راج لگائے، اسد قیصر
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
انہوں نے پیپلزپارٹی سے گورنر راج پر پارٹی پالیسی کی وضاحت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کہ فیصل کریم کنڈی کا بیان پارٹی پالیسی ہے یا نہیں، پی ٹی آئی امن چاہتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پی ٹی آئی رہنماء اسد قیصر نے کے پی میں گورنر راج کی بازگشت پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں اسد قیصر نے کہا کہ کسی میں جرات نہیں کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگائے، ہم اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں، گورنر راج ان کے بس کی بات نہیں۔ انہوں نے پیپلزپارٹی سے گورنر راج پر پارٹی پالیسی کی وضاحت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے، فیصل کریم کنڈی کا بیان پارٹی پالیسی ہے یا نہیں، پی ٹی آئی امن چاہتی ہے۔ رہنماء پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف تمام وسائل استعمال کیے جائیں، قانون میں جتنی گنجائش ہے، ہم اتنی بات کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پارٹی پالیسی گورنر راج
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔