ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملہ کرنیوالے دہشتگرد نیٹ ورک کی نشاندہی ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملہ کرنیوالے دہشتگرد نیٹ ورک کی نشاندہی ہوگئی WhatsAppFacebookTwitter 0 13 December, 2025 سب نیوز
پشاور: (آئی پی ایس) ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملہ کرنے والے دہشتگرد نیٹ ورک کی نشاندہی ہو گئی۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آوروں کا تعلق کالعدم دہشت گرد تنظیم سے ہے، خودکش حملہ آوروں نے پشاور میں چند دن تک قیام کیا تھا۔
تفتیشی حکام کے مطابق خودکش حملہ آوروں نے قیام کے دوران شہر کے راستوں سے واقفیت حاصل کی، خودکش جیکٹس اور رہائش کی فراہمی میں خودکش بمباروں کی سہولت کاری کی گئی۔
ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملے میں کتنے کلوگرام بارودی مواد استعمال ہوا؟ رپورٹ تیار
تفتیشی حکام کا بتانا ہے کہ ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملے سے متعلق کیس سے متعلق اب تک 150 سے زیادہ افراد سے تفتیش کی جاچکی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ایف سی ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے خودکش حملے میں 3 اہلکار شہید اور 5 زخمی ہوئے تھے جبکہ خودکش بمبار سمیت 3 حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسابق گورنر پنجاب چوہدری الطاف حسین کی اہلیہ کی نمازِ جنازہ ادا سابق گورنر پنجاب چوہدری الطاف حسین کی اہلیہ کی نمازِ جنازہ ادا پنجاب بھر سے غیر قانونی مقیم غیر ملکی باشندوں کے انخلا کا سلسلہ جاری بی بی سی بھی ستھرا پنجاب کی معترف، صفائی ماڈل برمنگھم پہنچ گیا امریکا میں 2 ہزار افغان شہریوں کے دہشت گرد تنظیموں سے روابط کا انکشاف عوام کیلئے خوشخبری، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 11روپے کی بڑی کمی کا امکان پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کی دوبارہ تشکیل، علی امین گنڈاپور شامل نہیں، نوٹیفکیشن جاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: خودکش حملہ ایف سی
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔