دنیا ایک اور جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
دنیا کے نقشے پر کبھی کبھی کچھ ملک ایسے لگتے ہیں جیسے جلتے ہوئے کوئلوں پر رکھے گئے پھول۔ آج کا وینیز ویلا بھی انھی ملکوں میں سے ایک ہے، ایک ایسا خطہ جو اپنے زخموں کے ساتھ دنیا کو پکار رہا ہے کہ بس اب بہت ہوگیا۔
ہم ایک ایسے وقت میں جی رہے ہیں، جب ہماری آنکھیں ابھی تک غزہ کے ملبے سے اٹھتے دھویں اورآگ کو بھول نہیں سکی ہیں۔ وہاں کے بچوں کی چیخیں ہماری سماعت میں مسلسل گونجتی ہیں اور ہم ابھی تک ان معصوم چہروں پر جمی خاک کو صاف بھی نہیں کرپائے کہ دوسری طرف یوکرین کی جنگ ایک نئی بربادی کی کہانی لکھ رہی ہے اور اس سب کے بیچ وینیز ویلا کے آسمان پر امریکی جنگی جہازوں کی پروازیں ایک اور بربادی کی طرف قدم ہے۔
دنیا پہلے ہی لہو میں ڈوبی ہوئی ہے۔ کیا ہم ایک اور جنگ برداشت کر سکتے ہیں؟ کیا تہذیبیں اسی طرح فنا ہوتی ہیں۔ وینیز ویلا کے عوام جو برسوں سے پابندیوں معاشی بربادی سیاسی جبر اور تقسیم کا عذاب سہہ رہے ہیں۔
ملک کے اندر قحط بے روزگاری غیر معمولی مہنگائی بجلی اور پانی کی کمی جیسے بحران یہ لوگ برداشت کر رہے ہیں اورکوئی ان کی فریاد سننے کو تیار نہیں ہے۔ ایسے میں امریکا کی فوجی پروازیں اور وینیز ویلا کے عوام پر طاقت کا مظاہرہ اور ممکنہ مداخلت کی بازگشت نے اس خطے میں امن استحکام اور سلامتی کو ختم کردیا ہے۔
ہم نے جابر حکومتوں کے خلاف آوازیں بلند کی ہیں اور دنیا بھر کی آمریتوں پر سوال اٹھائے ہیں، مگر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ بڑی طاقتوں کی مداخلتیں کبھی بھی جمہوریت کا دروازہ نہیں کھولتیں وہ صرف ایک نئی طرح کی غلامی چھوڑ جاتی ہیں۔ عراق، افغانستان، لیبیا، شام ان سب کا انجام ایک جیسا ہی تھا۔
آج وینیزویلا کی عوام اپنی زمین پرکھڑی ہے، ایک جبرکے سامنے مگر وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر اس جبر کے مقابلے میں جنگ ہوئی تو وہ جنگ انھیں مزید کمزور، مزید تقسیم اور مزید بے گھر کر دے گی۔
ہمارے زمانے کا المیہ یہ ہے کہ ہر طاقتور ملک اپنے آس پاس کمزور ریاستیں تلاش کرتا ہے تاکہ اپنی عسکری طاقت اپنی سیاسی برتری اور اپنے سرمایہ دارانہ مفادات کی بھوک کو مٹا سکے۔ وینیز ویلا میں تیل کے ذخائر ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کی نظر میں رہے ہیں۔ ایسے میں انسانی حقوق کی باتیں، جمہوریت کا نعرہ اور عوام کے لیے ہمدردی، اس کی فکر کس کو ہوتی ہے۔
دنیا کی سامراجی سیاست میں انسان کا خون اکثر خاموشی سے بہایا جاتا ہے، صرف اس لیے کہ بازار محفوظ رہیں اور سرمایہ داروں کے منافع میں کمی نہ آئے۔
وینیز ویلا کی موجودہ صورتحال بھی اسی پالیسی کا ایک باب ہے، اب اگر سمجھ بوجھ کا مظاہرہ نہیں کیا گیا تو یہ صورتحال بہت خطرناک ہوسکتی ہے کیونکہ اس بار ہم ایک ایسے موڑ پرکھڑے ہیں جہاں ہر نئی جنگ انسانیت کے وجود کو ہلا دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہر تنازع میں سب سے پہلے غریب مرتا ہے۔ جنگ ہمیشہ کمزوروں کے خون سے لکھی جاتی ہے اور طاقتور میز پر بیٹھ کر معاہدے کرتے ہیں۔ کچھ نئے نقشے کھینچتے ہیں اور دنیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان تباہیوں کو نئے عالمی حالات سمجھ کر قبول کیا جائے۔
دنیا کے ترقی پسند حلقوں، بائیں بازو کے کارکنوں اور امن کے علمبرداروں کی ذمے داری پہلے سے کہیں بڑھ چکی ہے۔ وینیز ویلا کے بحران کا حل سفارت کاری، مکالمہ، علاقائی تعاون اور عالمی ہمدردی میں ہے نہ کہ بارود میں۔
ہم سب کو یہ سوچنا ہوگا کہ ہم کیسا مستقبل اپنے بچوں کے لیے چھوڑکر جائیں گے۔ کیا ہم ان کے سروں پہ جنگ کا خوف مسلط کر کے جائیں گے یا ایک ایسا کل جس میں امن، انصاف اور انسانی وقار موجود ہو۔ ہمیں بہت سنجیدگی سے نہ صرف سوچنا ہوگا بلکہ اس کے لیے آج اور ابھی سے کام کرنا ہوگا۔
وینیز ویلا اگر ایک اور محاذ بن گیا تو یہ محاذ صرف لاطینی امریکا کی سرحدوں تک محدود نہیں رہے گا۔ یہ محاذ عالمی سیاست کو اس آگ میں جھونک دے گا جس میں سب کچھ جل کر راکھ ہو سکتا ہے۔
آج یہ سوچنا ناگزیر ہوگیا ہے کہ دنیا کی سیاست کب تک سرمایہ دارانہ مفادات کے گرد گھومتی رہے گی۔ کب تک وسائل کی ہوس انسانوں کے خون پر غالب رہے گی؟
بڑی طاقتیں ہمیشہ جمہوریت کے نام پر مداخلت کرتی رہی ہیں مگر آخر میں نہ جمہوریت بچتی ہے نہ انسان۔ صرف راکھ بچتی ہے اور اس راکھ میں دفن ہوجاتے ہیں وہ خواب جو کبھی آزادی کے لیے دیکھے گئے تھے۔
اسی لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری جنگی نعروں کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں، اگر ایک بار یہ شعلہ بھڑک اٹھا تو یہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ ایسے میں امن کی آوازیں بلند کرنا، مکالمے کے دروازے کھولنا اور عوامی مشکلات کو سیاسی جنگ سے الگ سمجھنا ہماری مشترکہ انسانی ذمے داری ہے۔
دنیا کا مستقبل اسی وقت محفوظ ہو سکتا ہے جب طاقتورکمزورکو روندنے کے بجائے اس کا ہاتھ تھامیں۔ اگر ہم نے اس لمحے کو ضایع کردیا تو کل تاریخ ہم سب کو اس بربادی کا ذمے دار ٹھہرائے گی۔
وینیزویلا جو کبھی لاطینی امریکا کی مضبوط معیشتوں میں شمار ہوتا تھا برسوں سے جاری پابندیوں کرپشن بد انتظامی اور خارجی دباؤ نے اس ملک کے عام شہریوں کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ خوراک کی قلت، ادویات کی کمی، پانی کے بحران نے لوگوں کو شدید مشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے۔
لاکھوں لوگ بہتر زندگی کی تلاش میں ہمسایہ ممالک کی طرف ہجرت کر چکے ہیں اور جو باقی رہ گئے ہیں، وہ خوف غیر یقینی اور غربت کے ساتھ روزانہ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔دنیا میں اس وقت پہلے ہی کئی محاذ سلگ رہے ہیں۔
ایسے میں وینیز ویلا کا بحران اگر شدت اختیارکرتا ہے، تو یہ صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کو متاثرکرے گا۔
وینیز ویلا کے عوام کو مزید زخم دینے کے بجائے یہ اہم ہے کہ ان کے ملک میں سیاسی استحکام ہو اور عوام کو معاشی بحران سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ جنگ کبھی کسی مسئلے کا حل نہیں رہی۔ اس نے صرف گھر، شہر اور خواب جلا کر راکھ کیے ہیں۔
امن کی راہیں تلاش کرنا، اختلافات کو سیاسی طریقے سے حل کرنا اور کمزور اقوام کے حقِ خود مختاری کا احترام کرنا ہی وہ راستہ ہے جس سے دنیا کو بچایا جاسکتا ہے، ورنہ تاریخ ایک بار پھر لکھے گی کہ انسان نے اپنی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وینیز ویلا کے ایسے میں ایک اور رہے ہیں ہیں اور کے لیے
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔