Express News:
2026-07-24@08:00:48 GMT

ڈر ہے یہ سب ایسے ہی چلتا رہے گا

اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT

’’یار لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان غریب ملک ہے لیکن اس علاقے کو دیکھیں تو غربت دور دور تک نظر نہیں آتی۔‘‘ بیرون ملک سے آئے ایک مہمان نے ہمارے ساتھ ایک پوش علاقے میں سفر کرتے ہوئے کومنٹ کیا۔

ہم نے جواب دیا یہ علاقہ خوشحال ترین علاقوں کا نمایندہ ہے۔ ہر بڑے شہر میں ایسے چند علاقے موجود ہیں جہاں ملکی اشرافیہ کے مسائل صبح کرنا شام نہیں ہیں بلکہ کون سی نئی گاڑی ہو؟ اگلا نیا گھر کہاں اور کتنا بڑا؟ اگلا فارن ٹریول کہاں اور کب؟

بچوں کی شادی کس ڈیسٹی نیشن یعنی کسی مشہور سیاحتی مقام پر ہو؟ رئیل اسٹیٹ کی قیمتیں کب چڑھیں گی؟ اسٹاک ایکسچینج کب دوبارہ اوپر چڑھے گی؟ حکومت کا ڈالر پر کنٹرول کب لوز ہو گا تاکہ رکھے ڈالروں کا فائدہ وصول ہو؟

وغیرہ وغیرہ۔ ان سے پرے ایک اور پاکستان ہے جو ان چند خوشحال ترین علاقوں کو چھوڑ کر ملک کے طول و عرض پر پھیلا ہوا ہے، جہاں صبح کرنا شام کا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

ایک ڈیڑھ سال پرانی بات ہے۔ لاہور کے ایک انتہائی پوش علاقے میں ایک شہرت یافتہ انٹرنیشنل برانڈ نے اپنا ریسٹورنٹ کھولا تو پہلے دن کی سیلز نے کمپنی کا پہلے دن سیلز عالمی ریکارڈ توڑ دیا۔

اگلے کئی ہفتے ریستوران کے باہر کروڑپتی خاندانوں کی لائنیں لگی رہیں۔ یہ اشرافیہ کا پاکستان ہے۔ دوسری طرف مڈل کلاس اور پسماندہ طبقات کے علاقوں میں چلے جائیں، سڑکوں پر ٹریفک کا اژدھام اور ہنگامہ، تنگ گلیاں اور مسائل کا ایک کے بعد ایک بڑا انبار۔ یہ دو پاکستان عدم مساوات کا مظہر ہیں۔

عدم مساوات صرف معاشی پیمانوں پر ہی ناپی نہیں جاتی، معاشی پیمانے تو عدم مساوات کے دستاویزی ثبوت ہیں جب کہ عدم مساوات کا اصل اظہار انسانی زندگی کے شب وروز، تعلیم، صحت، روزگار، امن اور مستقبل کے بارے میں امید پر مبنی ہوتا ہے۔

کون سی سیاسی پارٹی دنیا میں بھی اور پاکستان میں ہوگی جو عوام کو معاشی خواب دکھلا کر سماجی انقلاب برپا کرنے کے نام پر ان سے ووٹ کا تقاضا نہیں کرتی۔ تاہم یہ محض اتفاق نہیں کہ دنیا میں بالعموم اور ہمارے ہاں بھی سیاسی جماعتیں بار بار اقتدار میں آنے کے باوجود کوئی معاشی کرشمہ سازی نہیں کر پاتیں۔

سیاسی ضروریات اور دکھاوے کے بڑے بڑے پروجیکٹس ضرور بنتے ہیں لیکن کیا کیجیے کہ خلق خدا کی زندگیوں میں آسانیاں وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوئی ہیں بلکہ مشکلات کے انبار بڑھے ہیں۔

ایسا کیوں ہے کہ دنیا میں بظاہر ترقی کے باوجود معاشی ناہمواری اور عدم مساوات تیزی سے بڑھی ہے؟ سال بہ سال مختلف سرویز اور تحقیقی رپورٹیں اس بات کو اجاگر کرتی ہیں کہ معاشی ناہمواری اور سماجی عدم مساوات معاشی معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

حال ہی میں ورلڈ ان ایکویلٹی لیب World Inequality Lab نے 2026ء کی اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں ان خوفناک رجحانات کی نقشہ کشی ہے۔ اس رپورٹ پر گفتگو کرنے سے پہلے اس رپورٹ کے مرکزی خالق اور ان کے قائم کیے ادارے کا مختصر تعارف۔

تھامس پِکٹی (Thomas Piketty) عصرِ حاضر کے نمایاں ترین معاشی مفکرین میں شمار ہوتے ہیں، جنھوں نے عدم مساوات کو اعداد وشمار سے اٹھا کر سیاسی اور سماجی سوال بنا کر پیش کیا۔

وہ پیرس اسکول آف اکنامکس کے پروفیسر اور World Inequality Lab کے بانی ہیں۔ عالمی شہرت انھیں 2013ء میں شایع ہونے والی کتاب ’’Capital in the Twenty-First Century‘‘ سے ملی، جس نے دنیا بھر میں دولت کے ارتکاز اور سرمایہ داری کے تضادات پر نئی بحث چھیڑ دی۔

ورلڈ ان ایکوالٹی رپورٹس دراصل اسی تحقیق کا تسلسل ہے ، جنلس کا مقصد عدم مساوات کو بے نقاب کرنا اور اسے ناگزیر ماننے سے انکار ہے۔

ورلڈ ان ایکوالٹی لیب (World Inequality Lab) ایک عالمی تحقیقی ادارہ ہے جو دنیا بھر میں آمدن اور دولت کی عدم مساوات پر معیاری، قابلِ تقابل اور شفاف ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔ یہ ادارہ پیرس اسکول آف اکنامکس سے وابستہ ہے اور اس کی بنیاد تھامس پِکٹی، ایمانوئل سائز اور دیگر ممتاز ماہرینِ معیشت نے رکھی۔ ورلڈ ان ایکوالٹی رپورٹ اور World Inequality Database (WID) اسی ادارے کی ہی نمایاں کاوشیں ہیں۔

ورلڈ ان ایکوالٹی رپورٹ 2026ء کے مطابق دنیا میں عدم مساوات ایک پھیلتا ہوا مسلسل اور عروج پر پہنچتا ہوا مروجہ معاشی و سیاسی نظاموں سے جڑا بحران ہے جس کا اثر افراد، معاشروں اور پورے عالمی نظام پر پڑ رہا ہے۔

آج دنیا میں دولت اور مواقع کی تقسیم نہ صرف انتہائی غیرمساوی ہے بلکہ وہ سال بہ سال مزید شدید ہو رہی ہے۔

رپورٹ کے اعداد و شمار سادہ مگر خوفناک سچ ہیں: دنیا کی ٹاپ 10 فیصد آبادی اتنی آمدنی کما رہی ہے جتنی باقی 90 فیصد مل کر بھی نہیں کما پاتے۔ غربت کی لکیر کے نیچے آدھی آبادی کی مجموعی دولت کا محض دو فیصد ہے۔

دولت کی تقسیم آمدنی سے بھی زیادہ شدید ہے۔ اوپر والے دس فیصد کے پاس دنیا کی تقریباً 75 فیصد دولت ہے جب کہ نیچے کے پچاس فیصد کے پاس صرف 2 فیصد دولت موجود ہے۔

جب ہم صرف اوپر 0.

001 فیصد یعنی تقریباً 60,000 افراد کی دولت دیکھتے ہیں، تو ان کی مجموعی دولت اتنی ہے جتنی دنیا کی پسماندہ ترین پچاس فیصد لوگوں کے پاس کل ملا کر ہے۔

ان انتہائی امیر افراد کی دولت کے حصے میں گزشتہ تین دہائیوں میں مستقل اضافہ ہوا ہے جب کہ نیچے کے طبقوں کی دولت بہت سست رفتاری سے بڑھی ہے۔

یہ عدم مساوات صرف آمدنی یا دولت تک محدود نہیں رہتی۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ عدم مساوات کے تمام طول وعرض ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں… مواقع، تعلیم، صحت، مالی نظام اور حتیٰ کہ ماحولیاتی ذمے داری تک۔

جس طرح دولت مرکزیت اختیار کر چکی ہے، وہی مرکزیت کاربن اخراج اور ماحولیاتی اثرات میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔

سب سے امیر دس فیصد افراد 77 فیصد کاربن اخراج کے ذمے دار ہیں جب کہ نیچے کے پچاس فیصد کا حصہ صرف 3 فیصد ہے… اور سب سے زیادہ متاثر وہی طبقات ہیں جو خود بہت کم اخراج کرتے ہیں۔

رپورٹ بین الاقوامی مالیاتی نظام کے ڈھانچے کو بھی عدم مساوات کے محرک کے طور پر پیش کرتی ہے۔ امیر ممالک اور مالیاتی مراکز ’’غیرمساوی فوائد‘‘ حاصل کرتے ہیں: وہ کم شرح سود پر قرض لیتے ہیں۔

زیادہ منافع بخش اثاثے خریدتے ہیں اور یوں ہر سال تقریباً عالمی جی ڈی پی کا 1 فیصد امیر ممالک کی طرف منتقل ہوتا ہے، جو ترقی پذیر ملکوں کے لیے تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری کے بجائے بیرونی ادائیگیوں میں جاتا ہے۔

اشرافیہ کی گرفت میں جکڑے ملکوں کا ایک مظہر یہ بھی ہے کہ وہاں ایسے نان ایشوز پر صبح شام تلواریں نیام سے نکلی رہتی ہیں جن کا عوام کے روز وشب کے مسائل سے دور کا واسطہ بھی نہیں ہوتا۔

دور کیا جانا، ہمارے ہاں صبح شام میڈیا پر ہنگامہ خیز موضوعات کا جائزہ ہی کافی ہے۔ ایسے میں معاشی عدم مساوات جیسے بے سرے موضوع کو کون منہ لگاتا ہے۔ سو، جو چل رہا ہے، بقول فیض احمد فیض، ڈر یہ ہے کہ یہ سب ایسے ہی چلتا رہے گا!

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عدم مساوات دنیا میں

پڑھیں:

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔

امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے  باہمی  ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟

حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

عالمی ردعمل

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

قانونی ماہرین کی رائے

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹرمپ ٹیرف

متعلقہ مضامین

  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ