Jasarat News:
2026-06-03@04:38:23 GMT

بھاری زیور ٹھیک نہی

اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

خواتین کا بناو سنگھار زیورات کے بنا اسھورا تصور کیا جاتا ہے۔خواتین بھاری و ہلکے نفیس ڈیزائن کے زیورات خریدنا پسند کرتی ہیں۔کچھ ایسی خواتین بھی ہوتی ہیں جنہیں کانوں میں بھاری بالیاں پہننے کا شوق ہوتا ہے لیکن اس کے نقصانات سے وہ لاعلم ہوتی ہیں۔بھاری بالیاں پہننے سے بہت سے قلیل و طویل مدتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں خاص طور پر اگر اسے کثرت سے پہنا جائے۔اگر بھاری بالیاں زیادہ پہنی جائیں تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کانوں کی لو کھینچ جاتی ہیں جس کی وجہ سے یہ لمبی ہو جاتی ہیں اور اپنی قدرتی شکل کھو دیتی ہیں۔اگر بالیاں بہت بھاری ہوں اور غلطی سے کھنچ جائیں (مثال کے طور پر بالوں یا کپڑوں میں پھنس جائیں) تو وہ کان کی لو میں جزوی یا مکمل زخم ڈال سکتی ہیں اور بعض اوقات سرجری کی ضرورت بھی پڑسکتی ہے۔بھاری بالیاں کان پر مسلسل دباؤ ڈالتی ہیں جس سے کان کی لو اور آس پاس کی جگہوں میں درد ہوتا ہے۔علاوہ ازیں، طویل استعمال گردن اور سر کے پٹھوں میں تناؤ کا باعث بھی بن سکتا ہے جس سے ممکنہ طور پر سر درد کا مسئلہ بھی درپیش ہوجاتا ہے ۔مزید یہ کہ بالیوں کا وزن چھید کے سوراخ میں چھوٹے چھوٹے زخم پیدا کر سکتا ہے جس کے بعد بیکٹیریل انفیکشن کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔اگر بالیاں کم معیار کے مادوں سے بنی ہوں تو وہ الرجک ردِ عمل یا جلن کا سبب بن سکتی ہیں۔

ویب ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بھاری بالیاں

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید