پاکستان معاشی طور پر بحران سے نکل چکا ہے: وزیرِ اعظم
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان معاشی بحران کے مشکل مرحلے سے نکل چکا ہے اور اب ملک ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے، ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے گڈ گورننس کو فروغ دیا جائے گا، کاروباری ماحول کو سہل بنایا جائے گا اور نوجوانوں کو فنی و پیشہ ورانہ تربیت دے کر قومی معیشت کا متحرک حصہ بنایا جائے گا۔
یہ بات انہوں نے نیشنل ریگولیٹری ریفارمز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر، برطانیہ کی وزیر برائے بین الاقوامی ترقی دی رائٹ آنرایبل بیرونیس چیپمین، اراکینِ پارلیمنٹ، کاروباری شخصیات اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے نمائندے بھی موجود تھے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج کی یہ تقریب محض ایک پالیسی اقدام نہیں بلکہ ایک تاریخی موڑ کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ کاروباری طبقہ اور عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے ریگولیٹری اصلاحات کا مطالبہ کر رہے تھے، سرمایہ کار، صنعت کار اور تاجر برادری پیچیدہ قوانین، غیر ضروری ضوابط اور طویل سرکاری طریقہ کار کے باعث شدید مشکلات کا شکار تھے، تاہم نیا ریگولیٹری فریم ورک ایک کوانٹم جمپ ثابت ہوگا، جس سے نہ صرف کاروباری برادری بلکہ عام شہریوں کے دیرینہ مسائل بھی حل ہوں گے۔
وزیرِ اعظم نے ماضی کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو ملکی معیشت زبوں حالی کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ پالیسی ریٹ نے معاشی سرگرمیوں کو مفلوج کر رکھا تھا، مہنگائی بے قابو تھی، کاروبار جمود کا شکار تھے اور بیرونی سرمایہ کاری تقریباً رک چکی تھی۔ ان کے بقول ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا تھا، مگر حکومت نے مایوسی کے بجائے حوصلے، حکمت عملی اور ٹیم ورک کے ساتھ ان چیلنجز کا مقابلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل محنت اور درست فیصلوں کے نتیجے میں آج الحمدللہ پاکستان معاشی بحران سے نکل آیا ہے۔ معاشی اشاریے نمایاں طور پر بہتر ہو چکے ہیں، غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور سرمایہ کاری میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، پشاور سے کراچی تک معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے اور عالمی ادارے بھی پاکستان کی مثبت پالیسیوں کے معترف ہیں، بہتر حکمت عملی کے باعث آئی ایم ایف کی جانب سے 1.
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے نوجوانوں کو ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں روزگار کے قابل بنانے کے لیے فنی اور پیشہ ورانہ تربیت کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، آسان کاروبار اسکیم سمیت مختلف پروگراموں کے ذریعے ہزاروں نوجوان فائدہ اٹھا رہے ہیں، اس تربیت کے نتیجے میں نوجوانوں کو نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرونِ ملک بھی روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے، جس سے بیروزگاری میں کمی اور زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ادارہ جاتی فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ تعلیم، زراعت، صنعت، صحت اور سماجی شعبے سمیت مختلف میدانوں میں اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، حکومت عوامی مسائل سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور دن رات محنت کر رہی ہے تاکہ ملک کو ترقی کی شاہراہ پر مزید تیزی سے آگے بڑھایا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کا فروغ ناگزیر ہے، اسی مقصد کے تحت سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، امریکہ اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مختلف شعبوں میں بھرپور تعاون جاری ہے۔ وزیرِ اعظم کے مطابق حکومت کا ہدف پاکستان کو جلد ایک مضبوط معاشی قوت میں تبدیل کرنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
سٹی 42: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی ترقی اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبوں میں اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر غور کیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اور دیرپا پالیسی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
وزیراعظم نے کہا کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات عوامی فلاح اور طویل المدتی معاشی استحکام پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ انہوں نے متبادل توانائی کے ذرائع کے فروغ اور مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں متعارف کرانے کے لیے وزارتوں اور ماہرین کے درمیان مؤثر مشاورت یقینی بنائی جائے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔