Jasarat News:
2026-07-24@12:30:20 GMT

پاکستان معاشی طور پر بحران سے نکل چکا ہے: وزیرِ اعظم

اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT

پاکستان معاشی طور پر بحران سے نکل چکا ہے: وزیرِ اعظم

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان معاشی بحران کے مشکل مرحلے سے نکل چکا ہے اور اب ملک ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے، ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے گڈ گورننس کو فروغ دیا جائے گا، کاروباری ماحول کو سہل بنایا جائے گا اور نوجوانوں کو فنی و پیشہ ورانہ تربیت دے کر قومی معیشت کا متحرک حصہ بنایا جائے گا۔

یہ بات انہوں نے نیشنل ریگولیٹری ریفارمز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر، برطانیہ کی وزیر برائے بین الاقوامی ترقی دی رائٹ آنرایبل بیرونیس چیپمین، اراکینِ پارلیمنٹ، کاروباری شخصیات اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے نمائندے بھی موجود تھے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج کی یہ تقریب محض ایک پالیسی اقدام نہیں بلکہ ایک تاریخی موڑ کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ کاروباری طبقہ اور عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے ریگولیٹری اصلاحات کا مطالبہ کر رہے تھے، سرمایہ کار، صنعت کار اور تاجر برادری پیچیدہ قوانین، غیر ضروری ضوابط اور طویل سرکاری طریقہ کار کے باعث شدید مشکلات کا شکار تھے، تاہم نیا ریگولیٹری فریم ورک ایک کوانٹم جمپ ثابت ہوگا، جس سے نہ صرف کاروباری برادری بلکہ عام شہریوں کے دیرینہ مسائل بھی حل ہوں گے۔

وزیرِ اعظم نے ماضی کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو ملکی معیشت زبوں حالی کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ پالیسی ریٹ نے معاشی سرگرمیوں کو مفلوج کر رکھا تھا، مہنگائی بے قابو تھی، کاروبار جمود کا شکار تھے اور بیرونی سرمایہ کاری تقریباً رک چکی تھی۔ ان کے بقول ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا تھا، مگر حکومت نے مایوسی کے بجائے حوصلے، حکمت عملی اور ٹیم ورک کے ساتھ ان چیلنجز کا مقابلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ مسلسل محنت اور درست فیصلوں کے نتیجے میں آج الحمدللہ پاکستان معاشی بحران سے نکل آیا ہے۔ معاشی اشاریے نمایاں طور پر بہتر ہو چکے ہیں، غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور سرمایہ کاری میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، پشاور سے کراچی تک معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے اور عالمی ادارے بھی پاکستان کی مثبت پالیسیوں کے معترف ہیں، بہتر حکمت عملی کے باعث آئی ایم ایف کی جانب سے 1.

2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری بھی دی گئی ہے، جس سے آئندہ دنوں میں معاشی استحکام مزید مضبوط ہوگا۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے نوجوانوں کو ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں روزگار کے قابل بنانے کے لیے فنی اور پیشہ ورانہ تربیت کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، آسان کاروبار اسکیم سمیت مختلف پروگراموں کے ذریعے ہزاروں نوجوان فائدہ اٹھا رہے ہیں، اس تربیت کے نتیجے میں نوجوانوں کو نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرونِ ملک بھی روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے، جس سے بیروزگاری میں کمی اور زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ادارہ جاتی فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ تعلیم، زراعت، صنعت، صحت اور سماجی شعبے سمیت مختلف میدانوں میں اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، حکومت عوامی مسائل سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور دن رات محنت کر رہی ہے تاکہ ملک کو ترقی کی شاہراہ پر مزید تیزی سے آگے بڑھایا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کا فروغ ناگزیر ہے، اسی مقصد کے تحت سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، امریکہ اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مختلف شعبوں میں بھرپور تعاون جاری ہے۔ وزیرِ اعظم کے مطابق حکومت کا ہدف پاکستان کو جلد ایک مضبوط معاشی قوت میں تبدیل کرنا ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہے اور کہا کہ

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم