پاکستان معاشی طور پر بحران سے نکل چکا ہے: وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
—فائل فوٹو
وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اطمینان ہے کہ پاکستان معاشی طور پر بحران سے نکل چکا ہے۔
نیشنل ریگولیٹری ریفارمز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ اصلاحات کا مطالبہ عوام اور کاروباری طبقے کی گزشتہ کئی دہائیوں سے خواہش تھی۔ سرمایہ کار، صنعتکار، تاجر برادری پیچیدہ قوانین، غیر ضروری ضوابط اور طویل طریقہ کار سے پریشان تھے۔
انہوں نے کہا کہ جب حکومت سنبھالی تو پاکستان کی معیشت نازک صورتحال سے دوچار تھی، ملک عملی طور پر مالی دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑا تھا، مہنگائی بےقابو تھی، پالیسی ریٹ معیشت کو مفلوج کر چکا تھا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حمایت سے غزہ امن منصوبہ منظور ہوا، جنگ بندی کے لیے تعاون پر قطر، ترکیہ، سعودی عرب، یو اے ای اور ایران کے مشکور ہیں
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں کاروباری سرگرمیاں جمود کا شکار تھیں، ہماری حکومت نے اُمید کا دامن نہیں چھوڑا اور بہترین حکمت عملی کے ساتھ چیلنجز کا مقابلہ کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 1.
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نوجوان ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں، ان کو فنی اور پیشہ وارانہ تربیت فراہم کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شہباز شریف
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔