عالمی برادری افغان حکومت پر ذمہ داریوں کی ادائیگی کیلئے زور ڈالے، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے دہشت گردی کا نیا خطرہ افغان سرزمین سے سر اٹھا رہا ہے، عالمی برادری افغان حکومت پر ذمہ داریوں کی ادائیگی کیلئے زور ڈالے۔
ترکمانستان کی مستقل غیر جانبداری کی 30 سالہ سالگرہ پر منعقدہ عالمی فورم سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ قطر، ترکیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران کے جنگ بندی کیلئے تعاون پر مشکور ہیں، تنازعات کا پر امن حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حمایت سے غزہ امن منصوبہ منظور ہوا، سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 پاکستان کے وژن کی تائید ہے، آٹھ عرب اسلامی ممالک کے رکن کی حیثیت سے پاکستان کا امن مشن میں کردار ہے۔ مشرق وسطیٰ میں دیرپا جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی ضروری ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ترکمانستان کو اسکی غیر جانبداری کی سالگرہ کے 30 سال مکمل ہونے پر مبارکباد دیتا ہوں، اشک آباد کے شاندار شہر میں ہونا میرے لیے باعث مسرت ہے، سفید سنگ مرمر کی خوبصورتی اور ترکمان عوام کی گرمجوشی قابل تعریف ہے۔
قبل ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج جمعہ کی صبح عالمی رہنمائوں کے ہمراہ ترکمانستان کی مستقل غیرجانبداری کی پالیسی کی علامت ’’یادگار غیرجانبداری‘‘ کا دورہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ترکمانستان کے دارالحکومت اشک آباد میں یادگار غیرجانبداری پر پھول چڑھائے۔ اس موقع پر روس کے صدر ولادی میر پیوٹن، ترک صدر رجب طیب اردوان اور ترکمانستان کے صدر بردی محمدوف سمیت متعدد عالمی رہنما بھی موجود تھے جن سے وزیراعظم کا خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ ’’یادگار غیرجانبداری‘‘ ترکمانستان کی مستقل غیرجانبداری کی پالیسی کی علامت ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف بین الاقوامی سال برائے امن و اعتماد، عالمی دن برائے غیر جانبداری اور ترکمانستان کی تیس سالہ مستقل غیر جانبداری کی سالگرہ کے حوالے سے اشک آباد میں منعقدہ فورم میں شرکت کیلئے ترکمانستان کے دو روزہ دورے پر ہیں۔ وزیرِ اعظم فورم میں شریک عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ترکمانستان کی جانبداری کی شہباز شریف
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔