Jasarat News:
2026-06-03@01:07:55 GMT

آئی ایم ایف کی پاکستان کے لیے نئی شرائط

اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251214-03-3

 

پاکستان میں کرپشن ہی سب سے اہم اور بڑا مسئلہ ہے، جو ریاستی اداروں، معیشت اور عوامی اعتماد، تینوں کو بیک وقت کھوکھلا کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی پاکستان عالمی مالیاتی اداروں، بالخصوص آئی ایم ایف، کے پاس جاتا ہے تو قرض کے ساتھ ایسی شرائط بھی آتی ہیں جو محض مالی نظم و ضبط تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ براہِ راست گورننس اور کرپشن کے نظامی ڈھانچے پر بات ہوتی ہے۔ آئی ایم ایف کے پروگرام کا دوسرا جائزہ اور اس کے تحت تجویز کی گئی نئی شرائط دراصل اسی تلخ حقیقت کی عکاسی ہیں کہ پاکستان کی معاشی کمزوریوں کی جڑیں بدانتظامی اور کرپشن میں پیوست ہیں۔ آئی ایم ایف کی جانب سے شائع کی گئی گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ رپورٹ پاکستان کے لیے ایک آئینہ ہے، جس میں ریاستی اداروں کی وہ کمزوریاں نمایاں کی گئی ہیں جن پر برسوں سے پردہ ڈالا جاتا رہا۔ اس رپورٹ میں قانونی عملداری کی کمزوری، ادارہ جاتی احتساب کا فقدان، اختیارات کے ناجائز استعمال اور شفافیت کی کمی کو بنیادی مسائل قرار دیا گیا ہے۔ یہ محض نشاندہی نہیں بلکہ ایک تشخیص ہے، جس کے بعد علاج ناگزیر ہو چکا ہے۔ آئی ایم ایف کی سب سے اہم شرط یہی تھی کہ حکومت اس رپورٹ کو عوام کے سامنے لائے اور اس کی روشنی میں ایک جامع، قابل ِ عمل اور شفاف ایکشن پلان ترتیب دے۔ اگرچہ حکومت نے تاخیر کے بعد رپورٹ شائع کر دی، مگر ایکشن پلان کا نہ بن پانا اس بات کی علامت ہے کہ کرپشن کے خلاف سنجیدہ اصلاحات اب بھی سیاسی ترجیحات میں شامل نہیں۔ یہی تاخیر آئی ایم ایف کو یہ باور کرانے کے لیے کافی ہے کہ پاکستان میں مسئلہ افراد کا نہیں بلکہ پورے نظام کا ہے، جو خود اصلاح کے لیے آمادہ نظر نہیں آتا۔ نئی شرائط میں اعلیٰ سطحی وفاقی اور صوبائی سرکاری ملازمین کے اثاثوں کی تفصیلات شائع کرنے کی تجویز ایک غیر معمولی مگر ناگزیر قدم ہے۔ اگر واقعی شفافیت مقصود ہے تو اثاثوں کی عوامی دستیابی، بینکوں کو معلومات تک رسائی اور آزادانہ جانچ پڑتال وہ اقدامات ہیں جن سے کرپشن کی جڑوں پر ضرب لگ سکتی ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب اقدامات عملی طور پر نافذ ہو پائیں گے یا ماضی کی طرح فائلوں میں دب کر رہ جائیں گے؟ آئی ایم ایف کی جانب سے ’ہائی رسک‘ قرار دیے گئے دس اداروں کے لیے ایکشن پلان کی ذمے داری نیب کو سونپنا بھی ایک حساس فیصلہ ہے۔ نیب ماضی میں سیاسی انجینئرنگ، انتخابی دباؤ اور یکطرفہ احتساب کے الزامات کی زد میں رہا ہے۔ ایسے میں نیب کو مرکزی کردار دینا تب ہی مؤثر ہو سکتا ہے جب اسے واقعی خودمختار، پیشہ ور اور غیر جانبدار بنایا جائے۔ بصورتِ دیگر، احتساب کا عمل مزید متنازع ہو کر کرپشن کے خلاف جدوجہد کو کمزور کر دے گا۔ ان اصلاحات کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف کی جانب سے ٹیکس بڑھانے کی تجاویز، خاص طور پر کھاد اور کیڑے مار ادویات پر ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ، ایک نیا سماجی و معاشی سوال کھڑا کرتی ہیں۔ ایک طرف کرپشن کم کرنے اور اشیائے ضروریہ کی منڈیوں میں رکاوٹیں ختم کرنے سے عوام کو ریلیف ملنے کی امید دلائی جا رہی ہے، تو دوسری طرف کسانوں پر ٹیکس کا بوجھ ڈال کر زرعی معیشت کو مزید دباؤ میں لایا جا رہا ہے۔ اگر کرپشن کا اصل بوجھ اشرافیہ اور طاقتور طبقات پر ڈالنے کے بجائے بالواسطہ طور پر عام شہری اور کسان برداشت کریں، تو ایسی اصلاحات عوامی قبولیت حاصل نہیں کر سکتیں۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ آئی ایم ایف کیا شرائط عائد کر رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان خود کب تک بیرونی دباؤ کے تحت اصلاحات کرتا رہے گا؟ کرپشن کے خلاف حقیقی جنگ وہی ہوتی ہے جو اندرونی سیاسی عزم، مضبوط اداروں اور عوامی نگرانی سے لڑی جائے۔ جب تک قانون سب کے لیے برابر نہیں ہوتا، جب تک طاقتور احتساب سے بالاتر رہتے ہیں، اور جب تک شفافیت کو قومی قدر نہیں بنایا جاتا، کرپشن کی جڑیں مضبوط ہی رہیں گی۔ گو کہ ہم آئی ایم ایف کے شکنجے میں ہیں، لیکن ان باتوں پر اگر سنجیدگی سے عمل ہو تو پاکستان ایک بہتر، شفاف اور منصفانہ نظام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ اور انتباہ اس لیے کہ اگر یہ اصلاحات بھی محض رسمی ثابت ہوئیں تو معیشت کے ساتھ ساتھ ریاستی ساکھ کا بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔ اب فیصلہ پاکستان کے حکمرانوں کو کرنا ہے کہ وہ کرپشن کے خلاف حقیقی جنگ لڑنا چاہتے ہیں یا ہر چند سال بعد ایک نئے قرض اور نئی شرائط کے ساتھ اسی دائرے میں گھومتے رہیں گے۔

 

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف کی کرپشن کے خلاف کے ساتھ رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی

پاکستان میں مختلف اقسام کے ایندھن کی فروخت کا ماہانہ ڈیٹا جاری(mothly data) کردیا گیا۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 23 اور ماہانہ 14 فیصد کمی آئی۔

اعداد وشمار کے مطابق مئی 2026 میں11لاکھ 72ہزارٹن پیٹرولیم مصنوعات فروخت کی گئیں، مئی میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ 23اورماہانہ14فیصد کمی آئی۔

مئی میں آئل ریفائنریز کی پیداوارمیں بھی 7فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، سب سےبڑی کمی فرنس آئل کی فروخت میں سالانہ 64اورماہانہ 79فیصد آئی، فرنس آئل کی فروخت سالانہ بنیادپر80ہزارٹن سےگرکر29ہزارٹن پرآگئی۔

مئی میں سالانہ بنیاد پرڈیزل کی فروخت 32 فیصد کم ہوکر4لاکھ 55 ہزار ٹن جبکہ سالانہ بنیاد پرپیٹرول کی فروخت 12فیصد کم ہوکر6لاکھ 17ہزار ٹن رہی۔

مزید پڑھیں:حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

مئی میں پاکستان اسٹیٹ آئل کی فروخت میں 19اوراٹک پیٹرولیم میں 30فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ وافی انرجی کی فروخت 16فیصداورحیسکول پیٹرولیم کی فروخت میں37 فیصد کمی آئی۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف