آبادی کے لحاظ سے ہم 2030ء میں انڈونیشیا کو بھی پیچھے چھوڑ دیں گے، مصطفیٰ کمال
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
نجی یونیورسٹی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ بچوں کو ٹیکے لگانے جاتے ہیں تو دماغ میں آتا ہے پتہ نہیں یہ انگریزوں کی سازش ہے، دماغ میں یہ آتا ہے کہ بچوں کو پولیو سے بچا کے قطرے پلائیں گے وہ نسل نہیں بڑھا سکیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ہم ہر سال نیوزی لینڈ سے بڑی آبادی ملک میں پیدا کر رہے ہیں، دنیا میں ہر سال 62 لاکھ بچے پیدا ہو رہے ہیں، پاکستان کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، 2030ء میں ہم انڈونیشیا کو بھی پیچھے چھوڑ دیں گے۔ نجی یونیورسٹی نارتھ کراچی کیمپس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران مصطفی کمال نے کہا کہ پاکستان کو ہنر مند لوگوں کی ضرورت ہے، سرکار کے ادارے اتنے نہیں کہ پاکستان کے تمام بچوں کو تعلیم فراہم کر سکیں۔
مصطفی کمال نے کہا کہ ہیلتھ کیئر انسان کو مریض بننے سے بچانے کا نام ہے، ہیلتھ کیئر کا آغاز بچوں کی پیدائش سے ہوتا ہے، پاکستان میں تمام بیماریوں کا علاج ہیلتھ کیئر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دس ہزار کیسز ایسے ہیں جن میں 400 حاملہ خواتین کا انتقال ہو رہا ہے، ایک کروڑ تیس لاکھ لوگ ہیپاٹائٹس کے مریض ہیں، پورے پاکستان میں لوکل کونسل کا سسٹم ہی نہیں ہے، انسانوں کو مریض بننے سے روکنے کی ضرورت ہے یہ ہیلتھ کیئر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہیلتھ کیئر نے کہا
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن