سٹی 42 : غیر ملکی میڈیکل اور ڈینٹل گریجویٹس کے لیے نیشنل رجسٹریشن امتحان (این آر ای) 14 دسمبر 2025 کو ملک بھر کے بڑے علاقائی مراکز میں منعقد کیا جائے گا۔ یہ امتحان پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی پالیسی کے مطابق نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (نُمز)، راولپنڈی کے زیرِ انتظام لیا جائے گا۔

 پی ایم ڈی سی کے مطابق مجموعی طور پر 7 ہزار 76 غیر ملکی میڈیکل و ڈینٹل گریجویٹس نے رجسٹریشن کروا رکھی ہے، جن میں 6 ہزار 989 میڈیکل جبکہ 87 ڈینٹل گریجویٹس شامل ہیں۔ امتحان چار مراکز اسلام آباد/راولپنڈی، لاہور، کراچی اور پشاور میں منعقد ہوگا۔

ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کی پیشگوئی

اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد/راولپنڈی میں 2 ہزار 358 میڈیکل اور 43 ڈینٹل، لاہور میں 3 ہزار 562 میڈیکل اور 30 ڈینٹل، کراچی میں 499 میڈیکل اور 4 ڈینٹل جبکہ پشاور میں 570 میڈیکل اور 10 ڈینٹل امیدوار امتحان میں شریک ہوں گے۔ پی ایم ڈی سی کے مطابق غیر ملکی تعلیمی اداروں سے میڈیکل یا ڈینٹل ڈگری حاصل کرنے والے گریجویٹس اس امتحان میں کامیابی کے بغیر نہ تو عارضی یا مستقل رجسٹریشن کے اہل ہوں گے اور نہ ہی انہیں آزادانہ پریکٹس کی اجازت دی جائے گی۔ کونسل کا کہنا ہے کہ نیشنل رجسٹریشن امتحان پیشہ ورانہ اہلیت جانچنے کے لیے ایک شفاف، معیاری اور بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ نظام کے تحت منعقد کیا جاتا ہے۔ امتحان کے دونوں مراحل کامیابی سے مکمل کرنے والے امیدواروں کو متعلقہ قانونی تقاضوں کے مطابق رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں گے۔

شدید دھند کے باعث موٹرویز ہرقسم کی ٹریفک کے لئے بند

پی ایم ڈی سی کے مطابق امتحان کے تمام انتظامات مکمل کر لئےگئے ہیں۔ امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صبح 10 بجے تک اپنے متعلقہ امتحانی مراکز میں رپورٹ کریں، جبکہ امتحان دوپہر 12 بجے شروع ہوگا۔ مقررہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) کی خلاف ورزی کی صورت میں امیدوار کو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ادھر پی ایم ڈی سی نے والدین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بیرونِ ملک میڈیکل یا ڈینٹل تعلیم کے لیے بھیجتے وقت صرف تسلیم شدہ اور منظور شدہ تعلیمی اداروں کا انتخاب کریں۔ کونسل نے غیر معیاری یا ناقص معیار کے غیر ملکی میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں داخلہ لینے کو طلبہ کے پیشہ ورانہ مستقبل کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے فیصلے نہ صرف وقت اور سرمایہ ضائع کرتے ہیں بلکہ طبی پیشے کے وقار کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

مشہور مصنفہ گھر میں انتقال کرگئیں

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: غیر ملکی میڈیکل پی ایم ڈی سی سی کے مطابق میڈیکل اور کے لیے

پڑھیں:

راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔

شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔

وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

شزا فاطمہ وفاقی وزیر

متعلقہ مضامین

  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان