سٹی 42 : وزارت مذہبی امور نے نجی حج ٹور آپریٹرز کے لیے شرائط سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

ذرائع کے مطابق پرائیویٹ حج ٹور آپریٹرز کی کوتاہی سے عازم حج سفر پر نہ جا سکا تو کمپنی کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا۔ بروقت عازمین حج کی رقوم منتقلی میں ناکام حج ٹور آپریٹرز کا لائسنس منسوخ ہو گا۔

 ذرائع وزارت مذہبی امور کے مطابق لائسنس منسوخ ہونے کے بعد کمپنی آئندہ حج ٹور آپریٹرز کے طور پر کام نہیں کرسکے گی۔ اور مالی بے ضابطگی پر متعلقہ حج ٹورآپریٹر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کی پیشگوئی

 15 دسمبر تک سروسز حاصل نہ کرنے والے آپریٹرز کا بقیہ کوٹہ سرکاری حج اسکیم میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ عازمین حج کے لیے حج کے اخراجات جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر کی گئی ہے۔

 ذرائع کے مطابق وزارت مذہبی امور کی جانب سے پرائیویٹ حج ٹور آپریٹرز کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ جس کے مطابق نجی حج آپریٹرز کو حج پیکج کی رقم متعلقہ سعودی اکاؤنٹس میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے اور منیٰ کی زمین، رہائشی عمارتوں کی سروسز 21 دسمبر تک مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ 

شدید دھند کے باعث موٹرویز ہرقسم کی ٹریفک کے لئے بند

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: حج ٹور آپریٹرز کے مطابق

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی