شہریت چھوڑنے کے پیچھے کی اہم وجوہات میں بیرونی ممالک میں بہتر زندگی، ملازمت، اچھی تعلیم کے مواقع شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ہر سال بھارت چھوڑ کر بیرونی ممالک میں مقیم ہونے والے ہندوستانیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ تقریباً 2 لاکھ افراد ہر سال بیرونی ممالک میں بس رہے ہیں اور ہندوستانی شہریت چھوڑ رہے ہیں۔ گزشتہ 5 سالوں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو تقریباً 9 لاکھ ہندوستانیوں نے ملک کی شہریت چھوڑ دی ہے۔ ان کی شہریت چھوڑنے کے پیچھے کی اہم وجوہات میں بیرونی ممالک میں بہتر زندگی، ملازمت، اچھی تعلیم کے مواقع شامل ہیں۔ پارلیمنٹ میں وزیر مملکت برائے خارجہ کیرتی وردھن سنگھ نے ہندوستان کو خیرباد کہنے والوں سے متعلق اعداد و شمار کی جانکاری دی۔

کیرتی وردھن سنگھ نے بتایا کہ 2011ء سے 2024، یعنی 13 سال میں 20 لاکھ سے زائد ہندوستانی اپنے ممالک کو چھوڑ کر بیرونی ممالک میں رہنے لگے ہیں۔ ان اعداد و شمار میں اضافہ 2021ء کے بعد زیادہ ہوا ہے۔ 2022ء کی بات کریں تو اس سال ریکارڈ 2.

25 لاکھ لوگوں نے ہندوستان کی شہریت چھوڑ دی۔ 2023ء میں ہندوستان چھوڑنے والوں کی تعداد 2.16 لاکھ رہی۔ 2024ء میں ہندوستان چھوڑنے والوں کی آفیشیل تعداد فی الحال جاری نہیں کی گئی ہے، حالانکہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ملک چھوڑنے والوں کی تعداد بڑھی ہی ہوگی۔ کیرتی وردھن سنگھ نے یہ بھی جانکاری دی کہ 3 سالوں میں بیرون ملکی شہریوں سے متعلق 9.45 لاکھ شکایتیں درج کی گئی ہیں۔

وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس میں سے بیشتر شکایتیں "اوورسیز سٹیزن شپ آف انڈیا" کارڈ ہولڈرس سے منسلک ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ 2024ء 2025ء کے دوران بیرون ممالک میں رہنے والے ہندوستانیوں سے ملی شکایتوں کی تعداد پر ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت نے کہا کہ وزارت خارجہ کو 16 ہزار 127 شکایتیں ملیں۔ یہ شکایتیں حکومت کے آن لائن شکایت پلیٹ فارم کے ذریعہ درج کی گئیں۔ اس میں 11 ہزار 195 معاملے تھے اور سی پی گرامس کے 4932 معاملے ملے تھے۔ سب سے زیادہ پریشانی والے معاملوں کی رپورٹ کرنے والے ممالک کی لسٹ میں سعودی عرب سر فہرست تھا، جس میں 3049 شکایتیں تھیں۔ اس کے بعد یو اے ای (1587 شکایتیں)، ملیشیا (662 شکایتیں)، امریکہ (620 شکایتیں)، عمان (613 شکایتیں)، کویت (549 شکایتیں)، کناڈا (345 شکایتیں)، آسٹریلیا (318 شکایتیں)، انگلینڈ (299 شکایتیں) اور قطر (289 شکایتیں) کا نمبر آتا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بیرونی ممالک میں شہریت چھوڑ کی تعداد

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد