13 سالوں میں 20 لاکھ سے زائد بھارتیوں نے ہمیشہ کیلئے ملک چھوڑ دیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
شہریت چھوڑنے کے پیچھے کی اہم وجوہات میں بیرونی ممالک میں بہتر زندگی، ملازمت، اچھی تعلیم کے مواقع شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ہر سال بھارت چھوڑ کر بیرونی ممالک میں مقیم ہونے والے ہندوستانیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ تقریباً 2 لاکھ افراد ہر سال بیرونی ممالک میں بس رہے ہیں اور ہندوستانی شہریت چھوڑ رہے ہیں۔ گزشتہ 5 سالوں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو تقریباً 9 لاکھ ہندوستانیوں نے ملک کی شہریت چھوڑ دی ہے۔ ان کی شہریت چھوڑنے کے پیچھے کی اہم وجوہات میں بیرونی ممالک میں بہتر زندگی، ملازمت، اچھی تعلیم کے مواقع شامل ہیں۔ پارلیمنٹ میں وزیر مملکت برائے خارجہ کیرتی وردھن سنگھ نے ہندوستان کو خیرباد کہنے والوں سے متعلق اعداد و شمار کی جانکاری دی۔
کیرتی وردھن سنگھ نے بتایا کہ 2011ء سے 2024، یعنی 13 سال میں 20 لاکھ سے زائد ہندوستانی اپنے ممالک کو چھوڑ کر بیرونی ممالک میں رہنے لگے ہیں۔ ان اعداد و شمار میں اضافہ 2021ء کے بعد زیادہ ہوا ہے۔ 2022ء کی بات کریں تو اس سال ریکارڈ 2.
وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس میں سے بیشتر شکایتیں "اوورسیز سٹیزن شپ آف انڈیا" کارڈ ہولڈرس سے منسلک ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ 2024ء 2025ء کے دوران بیرون ممالک میں رہنے والے ہندوستانیوں سے ملی شکایتوں کی تعداد پر ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت نے کہا کہ وزارت خارجہ کو 16 ہزار 127 شکایتیں ملیں۔ یہ شکایتیں حکومت کے آن لائن شکایت پلیٹ فارم کے ذریعہ درج کی گئیں۔ اس میں 11 ہزار 195 معاملے تھے اور سی پی گرامس کے 4932 معاملے ملے تھے۔ سب سے زیادہ پریشانی والے معاملوں کی رپورٹ کرنے والے ممالک کی لسٹ میں سعودی عرب سر فہرست تھا، جس میں 3049 شکایتیں تھیں۔ اس کے بعد یو اے ای (1587 شکایتیں)، ملیشیا (662 شکایتیں)، امریکہ (620 شکایتیں)، عمان (613 شکایتیں)، کویت (549 شکایتیں)، کناڈا (345 شکایتیں)، آسٹریلیا (318 شکایتیں)، انگلینڈ (299 شکایتیں) اور قطر (289 شکایتیں) کا نمبر آتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بیرونی ممالک میں شہریت چھوڑ کی تعداد
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔