"پیکس سیلیکا" میں بھارت کی غیر شمولیت مودی حکومت کی سفارتی ناکامی ہے، کانگریس
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
کانگریس لیڈر نے نشاندہی کی کہ 10 مئی 2025ء کے بعد سے سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے تعلقات میں واضح بگاڑ آیا ہے، جسکے اثرات اب کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کے سینیئر لیڈر جے رام رمیش نے امریکہ کی قیادت میں قائم ہونے والے ہائی ٹیک سپلائی چین اتحاد "پیکس سیلیکا" سے ہندوستان کو باہر رکھے جانے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے اس پیشرفت کو مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی سنگین ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ بدلتے عالمی اسٹریٹجک منظرنامے میں ہندوستان کی کمزور ہوتی پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے۔ جے رام رمیش نے کہا کہ امریکہ نے چین کے ہائی ٹیک غلبے کو کم کرنے کے مقصد سے جو نو ملکی اتحاد تشکیل دیا ہے، اس میں جاپان، جنوبی کوریا، سنگاپور، نیدرلینڈز، برطانیہ، اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور آسٹریلیا جیسے ممالک کو شامل کیا گیا مگر ہندوستان کو نظرانداز کر دیا گیا۔ ان کے مطابق یہ محض اتفاق نہیں بلکہ حالیہ مہینوں میں ہند-امریکہ تعلقات میں آئی سرد مہری کا نتیجہ ہے۔
کانگریس لیڈر نے نشاندہی کی کہ 10 مئی 2025ء کے بعد سے سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے تعلقات میں واضح بگاڑ آیا ہے، جس کے اثرات اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس دوستی کو کبھی بڑے جلسوں، گلے ملنے اور تصویری علامتوں کے ذریعے عالمی سطح پر پیش کیا گیا، وہ اب عملی سفارت کاری میں کوئی فائدہ نہیں دے پا رہی۔ جے رام رمیش نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایک طرف وزیر اعظم امریکہ کے صدر سے فون پر بات چیت کو غیر معمولی کامیابی کے طور پر پیش کر رہے ہیں، اور دوسری طرف ہندوستان کو ایک ایسے اسٹریٹجک اتحاد سے باہر رکھا جا رہا ہے جو مستقبل کی ٹیکنالوجی اور عالمی سپلائی چین کی سمت طے کرے گا۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر ہندوستان اس اتحاد کا حصہ ہوتا تو اسے سیمی کنڈکٹرز، جدید مینوفیکچرنگ، تحقیق و ترقی اور ہائی ٹیک سرمایہ کاری کے میدان میں براہِ راست فائدہ پہنچ سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے بلند بانگ دعووں کے باوجود ہندوستان کو اس اہم فورم پر جگہ نہ ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ خارجہ پالیسی صرف تشہیر سے نہیں، سنجیدہ اور مستقل سفارتی حکمتِ عملی سے چلتی ہے۔ جے رام رمیش نے سوال اٹھایا کہ آیا حکومت اس موقع کے ضائع ہونے کی ذمہ داری قبول کرے گی یا حسبِ معمول خاموشی اختیار کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ "پیکس سیلیکا" سے ہندوستان کی غیر شمولیت آنے والے برسوں میں ملک کے اسٹریٹجک اور معاشی مفادات پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہندوستان کو انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔