مائنس پلس کی سیاست کے بجائے قابلیت کوترجیح دی جائے‘کاشف شیخ
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251212-08-31
کراچی( اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی سندھ کے امیرکاشف سعید شیخ نے کہا ہے کہ مائنس پلس کی سیاست کے بجائے قابلیت امانت ودیانت کوترجیح دی جائے تو ملک ترقی اورعوام مہنگائی بیروزگاری جیسے مسائل سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان میں مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے کا انتباہ معاشی ترقی اوراوراونچی اڑان کے دعویدار حکمرانوں کے لیے لمحہ فکر ہے۔ سیاسی انتشار اور معیشت کی بدحالی نے وطن عزیز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔قومی مفاد میں سیاسی ڈائیلاگ ہی تمام مسائل کا حل ہے۔انہوں نے ایک بیان میں کہاکہ ماضی میں جن کو ملک کے لیے سیکورٹی رسک قراردیا گیا ان ہی کو پھرآنکھ کا تارا بنایا جاتا ہے۔جب تک یہ بنائو اوربگاڑکا کھیل ختم نہیں کیاجاتا اورعوام کو اپنی مرضی کی قیادت منتخب کرنے کا موقع نہیں دیا جاتااس وقت تک ملک بحرانوں سے نہیں نکل سکتا۔ حکمرانوں کو ان ہی مفادپرستانہ پالیسیوں کی وجہ ملک 2ٹکڑے ہوا۔اس لیے ملک کوبحرانوں سے نکالنے کے لیے تمام جمہوریت پسندقوتوں کو مل بیٹھنا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔