‎پیپلز پارٹی خواتین ونگ گلگت بلتستان کی سیکرٹری اطلاعات و امیدوار جی بی اے 10 خدیجہ اکبر خان نے کہا ہے کہ خواتین کوٹہ اگر صرف فہرستیں مکمل کرنے اور نمائشی توازن دکھانے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ جمہوریت کے ساتھ مذاق ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ‎پیپلز پارٹی خواتین ونگ گلگت بلتستان کی سیکرٹری اطلاعات و امیدوار جی بی اے 10 خدیجہ اکبر خان نے کہا ہے کہ خواتین کوٹہ اگر صرف فہرستیں مکمل کرنے اور نمائشی توازن دکھانے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ جمہوریت کے ساتھ مذاق ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں خواتین کو محض علامتی نمائندگی نہیں بلکہ عملی اور بااختیار سیاسی کردار دیں۔ ‎انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ جنرل الیکشن میں اپنی ہی تنظیموں میں کام کرنے والی، قربانیاں دینے والی اور عوامی سیاست میں متحرک خواتین کو نظرانداز کرنا دراصل نصف آبادی کے سیاسی حق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ یہ روش نہ صرف خواتین کی توہین ہے بلکہ سیاسی جماعتوں کی سنجیدگی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

‎خدیجہ اکبر خان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں اگر کوئی جماعت خواتین کو ڈیسژن میکر بنانے کی اخلاقی جرات اور سیاسی طاقت رکھتی ہے تو وہ پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔ پیپلز پارٹی نے تاریخ میں خواتین کو محض ووٹ بینک نہیں سمجھا بلکہ انہیں قیادت، قانون سازی اور پالیسی سازی میں حقیقی مقام دیا ہے۔ ‎انہوں نے واضح کیا کہ اب مزید خاموشی، مصلحت اور نمائشی اقدامات قابل قبول نہیں۔ خواتین اپنے حقوق سے آگاہ ہیں اسلیے پارٹیوں کو چاہیے کہ وہ اپنی خواتین کو ان عملی اختیار اور باوقار نمائندگی دے۔ ‎آخر میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ خواتین کوٹے کو سنجیدگی سے نافذ کیا جائے اور اہل، متحرک اور نظریاتی خواتین کو جنرل الیکشن میں ٹکٹ دے کر قومی و علاقائی سیاست میں آگے لایا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: خدیجہ اکبر خان پیپلز پارٹی خواتین کو

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار