ویب ڈیسک : صارفین ہوجائیں تیار اور سردی سے قبل اپنی جیبیں گرم کر لیں کہ گیس ممکنہ طور پر مہنگی ہونے والی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق گیس کمپنیوں نے مالی سال 2025-26 کیلیے گیس مہنگی کرنے کی درخواستیں دائر کر دی ہیں۔ اوگرا ان درخواستوں کی 7 اور 11 نومبر کو سماعت کرے گا۔
سوئی ناردرن گیس کمپنی نے 189 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو گیس مہنگی کرنے کی درخواست دی ہے جب کہ سوئی سدرن گیس کمپنی نے 125 روپے 41 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ مانگا ہے۔
لیسکو کی جانب سے سنگل فیز اسمارٹ میٹر کی قیمت مقرر
سوئی ناردرن نے گیس کی اوسط مقررہ قیمت 1955 روپے 50 پیسے اور سوئی سدرن گیس نے اوسط مقررہ قیمت 1658 روپے 56 پیسے فی ایم ایم بی ٹِی یو مقررکرنے کی درخواست کی ہے۔
سوئی ناردرن کا مالی سال 26-2025 کے لیے مالی ضروریات کا تخمینہ 52 ارب 95 کروڑ سے زائد جب کہ سوئی سدرن کا یہی تخمینہ 24 ارب سے زائد لگایا گیا ہے۔
سوئی ناردرن نے ایل پی جی ایئرمکس منصوبے کی سبسڈی کی مد میں 58 کروڑ 20 لاکھ روپے شارٹ فال کا تخمینہ لگایا ہے۔ سوئی سدرن نے گزشتہ سالوں کے خسارے کی مد میں 34 ارب 25 کروڑ روپے وصولی کی درخواست کی ہے۔
امتحانات سے قبل ہی لاہور بورڈ کی نااہلی سامنے آگئی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔