Jasarat News:
2026-06-03@03:17:48 GMT

انڈس موٹر کمپنی کو 6.7 ارب روپے کا منافع

اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(کامرس رپورٹر) انڈس موٹر کمپنی لمیٹڈ (آئی ایم سی) نے مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی (اختتام 30 ستمبر2025) کے مالیاتی نتائج کا اعلان کیا ہے، جو معیشت کی بتدریج بحالی کے دوران مضبوط فروخت اور بہتر منافع کی عکاسی کرتے ہیں۔کمپنی کی خالص فروخت 48 فیصد اضافے کے ساتھ 41.

6 ارب روپے سے بڑھ کر 61.7 ارب روپے ہوگئی، جبکہ بعد از ٹیکس منافع 5.1 ارب روپے سے بڑھ کر 6.7 ارب روپے تک جا پہنچا۔ فی حصص آمدنی (EPS) 64.77 روپے سے بڑھ کر 85.49 روپے رہی۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے فی حصص 51 روپے کی پہلی عبوری نقد ڈویڈنڈ (گزشتہ سال فی حصص 39 روپے) کا اعلان کیا۔آئی ایم سی کی گاڑیوں کی فروخت میں 59 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 6,292 یونٹس سے بڑھ کر 9,976 یونٹس ہوگئی۔ پیداوار 54 فیصد اضافہ کے ساتھ 10,230 یونٹس رہی۔ یہ اضافہ ٹویوٹا کی کرولا اور یارس ماڈلز کی مستحکم طلب کے باعث ممکن ہوا۔ کمپنی نے اپنا مقامی آٹو مارکیٹ میں 15 فیصد حصہ برقرار رکھا۔کمپنی کے منافع میں اضافہ زیادہ فروخت، لاگت کے نظم و ضبط، مقامی پرزہ جات کے استعمال میں اضافے، مستحکم زرِمبادلہ کی شرح اور سپلائی چین کی بہتری کی بدولت ممکن ہوا۔نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹو آفیسر، علی اصغر جمالی، نے کہا:‘‘یہ کارکردگی ہماری مضبوطی، اور صارفین کے ٹویوٹا پر پختہ اعتماد کی عکاس ہے۔ معاشی چیلنجز اور استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں سے بڑھتی ہوئی مسابقت کے باوجود ہم مقامی پیداوار، عملی کارکردگی اور اعلیٰ معیار کی گاڑیوں کی فراہمی کے اپنے عزم پر قائم ہیں۔ ہماری توجہ پائیدار ترقی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے طویل المدتی قدر پیدا کرنے پر مرکوز ہے۔’’پاکستان کی معیشت نے اس سہ ماہی کے دوران بتدریج بحالی کا مظاہرہ کیا، افراطِ زر کی اوسط شرح 4.2 فیصد رہی، جبکہ مالی خسارہ جی ڈی پی کے 4 فیصد تک محدود رہا۔ آٹو انڈسٹری میں مقامی طور پر تیار کی جانے والی گاڑیوں کی فروخت میں سال ہہ سال 53 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو بہتر معاشی حالات اور کم فنانسنگ لاگت کی بدولت ممکن ہوا۔آئندہ کے لیے آئی ایم سی نے محتاط، مگر پْرامید نقطہ نظر اپنایا ہے، جس میں توجہ مقامی پیداوار، جدت اور کارکردگی پر مرکوز ہے۔ کمپنی نے زرِمبادلہ کے اتار چڑھاؤ، پالیسی تبدیلیوں اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد جیسے ممکنہ چیلنجز پر نظر رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔سی ای او، علی اصغر جمالی نے صارفین، ملازمین، ڈیلرز، وینڈرز اور شیئر ہولڈرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی پاکستان کی آٹو انڈسٹری اور معیشت میں اپنے کردار کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پائیدار ترقی کے عزم پر قائم ہے۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گاڑیوں کی سے بڑھ کر ارب روپے

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا