لاہور: موٹر سائیکلیں قسطوں پر فروخت کرنیوالے دکاندار پر 23 لاکھ روپے کے چالان
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
—فائل فوٹو
لاہور میں ایک دکاندار کو قسطوں پر موٹر سائیکلیں دینے کا کاروبار مہنگا پڑ گیا، قسطوں پر دی گئی موٹر سائیکلوں کے 23 لاکھ روپے کے ٹریفک چالان نکل آئے۔
سیف سٹی ذرائع کے مطابق لاہور میں قسطوں کا کاروبار کرنے والے صادق خان کے نام پر 500 موٹر سائیکلز رجسٹرڈ ہیں، جنہیں سیف سٹی کی جانب سے 2 ہزار 71 چالان بھجوائے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق قسطوں پر موٹر سائیکلیں دینے والا صادق خان گڑھی شاہو کا رہائشی ہے، کیمپس پل پر ٹریفک وارڈن نے اس کے نام رجسٹرڈ موٹر سائیکل روکی تو اس کے 12 ہزار روپے کے ای چالان نکل آئے۔
مزید تحقیق پر پتہ چلا کہ دکاندار کے نام رجسٹرڈ 500 موٹر سائیکلوں کے 23 لاکھ روپے سے زائد رقم کے چالان ہو چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔