پنجاب اسمبلی میں صوبائی موٹر گاڑیاں آرڈیننس پیش، خلاف ورزیوں پر جرمانوں کی فہرست سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)پنجاب اسمبلی میں صوبائی موٹر گاڑیاں (چوتھی ترمیم) آرڈیننس 2025 پیش کر دیا گیا جس کی منظوری پہلے ہی گورنر پنجاب نے دے دی تھی اور اسے حالیہ اجلاس میں ایوان میں پیش کیا گیا۔
آرڈیننس کے مطابق مختلف خلاف ورزیوں پر جرمانے اور سزاؤں کی حد مقرر کی گئی ہے۔ کالے شیشے رکھنے، کم عمر بچوں کے موٹر گاڑی چلانے، ون وے گاڑی چلانے اور بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ گاڑی چلانے پر 6 ماہ تک قید اور 50 ہزار روپے تک جرمانہ ہوگا۔
ڈرائیور اور مسافر دونوں کے لیے سیٹ بیلٹ پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ تیز رفتاری کرنے پر موٹر سائیکل سوار کو 2 ہزار، تھری وہیلر کو 3 ہزار، عام گاڑی کو 5 ہزار اور لگژری یا ٹرانسپورٹ گاڑیوں پر 20 ہزار روپے تک جرمانہ ہوگا۔
اوور لوڈنگ، سگنل توڑنے، خراب لائٹس کے ساتھ رات کو گاڑی چلانے، ون وے کی خلاف ورزی، زیبرا کراسنگ کی خلاف ورزی، بغیر ڈرائیونگ لائسنس گاڑی چلانے، دھواں چھوڑنے اور ہیلمٹ نہ پہننے جیسے جرائم کے لیے بھی مخصوص جرمانے مقرر کیے گئے ہیں، جو گاڑی کی نوعیت کے مطابق مختلف ہیں۔
مثال کے طور پر، موٹر سائیکل سوار کو ان خلاف ورزیوں پر 2 ہزار سے 3 ہزار روپے، عام گاڑیوں کو 3 ہزار سے 5 ہزار روپے، لگژری گاڑیوں کو 8 سے 10 ہزار اور ٹرانسپورٹ گاڑیوں کو 10 سے 15 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔
آرڈیننس کو اب پنجاب اسمبلی کی متعلقہ کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا ہے اور اسمبلی کی منظوری کے بعد یہ باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: گاڑی چلانے ہزار روپے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔